اولین شبکه اجتماعی شیعیان   آشیان مهر
 
 
 


شرکت تعاونی خدمات پیشرو آشیان مهر تنکابن

شرکت تعاونی خدمات پیشرو آشیان مهر تنکابن

ارائه کننده خدمات رایانه ای اینترنت سخت افزار و نرم افزار
نشانی :استان مازندران - تنکابن - خیابان شهید ابوذر حاتمیان - جنب ابن سینای غربی - ساختمان اشکان تلفن:01924223845

در انجمن وب سايت چه خبر است ؟
عنوان بازديد توسط

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کی مختصر سوانح حیات
امتیاز به پست : قائد-انقلاب-اسلامی-حضرت-آیت-اللہ-العظمی-سید-علی-خامنہ-ای-کی-مختصر-سوانح-حیات قائد-انقلاب-اسلامی-حضرت-آیت-اللہ-العظمی-سید-علی-خامنہ-ای-کی-مختصر-سوانح-حیات قائد-انقلاب-اسلامی-حضرت-آیت-اللہ-العظمی-سید-علی-خامنہ-ای-کی-مختصر-سوانح-حیات قائد-انقلاب-اسلامی-حضرت-آیت-اللہ-العظمی-سید-علی-خامنہ-ای-کی-مختصر-سوانح-حیات قائد-انقلاب-اسلامی-حضرت-آیت-اللہ-العظمی-سید-علی-خامنہ-ای-کی-مختصر-سوانح-حیات نتیجه : 196 امتیاز توسط : 65 نفر


 

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای
کی مختصر سوانح حیات

قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت  اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے والد حجت الاسلام والمسلمین حاج سید جواد حسینی خامنہ ای مرحوم تھے۔ قائد انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی خامنہ ای اٹھائیس صفر تیرہ سو اٹھاون ہجری قمری کو مشہد مقدس میں پیدا ہوئے۔آپ اپنے خاندان کے دوسرے فرزند تھے۔ آپ کے والد سید جواد خامنہ ای کی زندگي دینی علوم کے دیگر اساتذہ اور علمائے دین کی مانند انتہائی سادہ تھی۔ان کی شریک حیات اور اولاد نے بھی قناعت اور سادہ زندگي گزارنے کے گہرے معنی ان سے سیکھے تھے اور اس پر عمل کرتے تھے۔
قائد انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اپنی اور اپنے اہل خانہ کی زندگي اور حالات کے بارے میں اپنی بچپن کی یادوں کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
میرے والد ایک مشہور عالم دین تھے لیکن بہت ہی پارسا اور گوشہ نشین ...
ہماری زندگي تنگ دستی میں بسر ہوتی تھی۔مجھے یاد ہے کہ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا تھا کہ ہمارے گھر میں رات کا کھانا نہیں ہوتا تھا اور ہماری والدہ بڑی مشکل سے ہمارے لیے کھانے کا بندوبست کرتی تھیں اور ... وہ رات کا کھانا بھی کشمش اور روٹی ہوتی تھی۔
لیکن جس گھر میں سید جواد کا خاندان رہتا تھا اس کے بارے میں قائد انقلاب اسلامی کچھ یوں بیان کرتے ہیں:
میرے والد صاحب کا گھر کہ جہاں میری پیدائش ہوئی اور میرے بچپن کے چار پانچ سال وہیں گزرے ، ساٹھ ستر میٹر کا ایک گھر تھا جو مشہد کے ایک غریب علاقے میں واقع تھا۔اس گھر میں صرف ایک ہی کمرہ اور ایک تنگ و تاریک سرداب(تہہ خانہ)تھا۔جب کوئی مہمان ہمارے والد سے ملنے کے لیے آتا ہمارے والد چونکہ عالم دین تھے اس لیے عام طور پر لوگ ان سے ملنے کے لیے آتے تھے تو ہم سب گھر والوں کوسرداب( تہہ خانہ ) میں جانا پڑتا اور مہمان کے جانے تک وہیں پر رہتے۔بعد میں میرے والد کے کچھ عقیدت مندوں نے ہمارے گھر کے ساتھ والی زمین خرید کر میرے والد صاحب کو دے دی اور پھر ہمارا گھر تین کمروں کا ہو گيا۔
قائد انقلاب اسلامی نے ایک غریب لیکن دیندار ، پاکیزہ اور علم دوست گھرانے میں تربیت پائی اور چار سال کی عمر میں اپنے بڑے بھائي سید محمد کے ہمراہ مکتب بھیج دیے گئے تا کہ قرآن پڑھنا سیکھ لیں۔اس کے بعد دونوں بھائیوں نے تازہ قائم ہونے والے اسلامی اسکول دارالتعلیم دیانتی میں ابتدائی تعلیم حاصل کی ۔
دینی درسگاہ میں
 آپ ہائی اسکول کے بعد دینی درسگاہ میں داخل ہو گئے اور اپنے والد اور اس وقت کے دیگر اساتذہ سے عربی ادب اور مقدمات(قواعد) کی تعلیم حاصل کی ۔آپ دینی درسگاہ میں داخلے اور دینی تعلیم کے انتخاب کے محرک کے بارے میں کہتے ہیں:
اس نورانی راستے کے انتخاب میں بنیادی عنصر اور محرک میرے والد کا عالم دین ہونا تھا اور میری والدہ کی خواہش تھی۔
آپ نے جامع المقدمات ، سیوطی اور مغنی کی مانند عربی ادب کی کتابیں مدرسۂ سلیمان خان اور مدرسۂ نواب کے اساتذہ سے پڑھیں اور آپ کے والد بھی اپنے بچوں کی تعلیم پر نظر رکھتے تھے۔اسی دوران آپ نے کتاب معالم بھی پڑھی۔اس کے بعد آپ نے شرائع الاسلام اور شرح لمعہ اپنے والد سے اور ان کے بعض حصے آقا میرزا مدرس یزدی مرحوم سے پڑھے اور رسائل و مکاسب حاج شیخ ہاشم قزوینی سے اور فقہ و اصول کے دروس سطح اپنے والد سے پڑھے۔آپ نے حیرت انگیز طور پر صرف ساڑھے پانچ سال کے عرصے میں مقدمات اور سطح کے کورس مکمل کر لۓ۔آپ کے والد سید جواد مرحوم نے ان تمام مراحل میں اپنے چہیتے بیٹے کی ترقی و پیشرفت میں اہم کردار ادا کیا۔قائد انقلاب اسلامی نے منطق اور فلسفہ میں کتاب منظومہ سبزواری پہلے آیت اللہ میرزا جواد آقا تہرانی مرحوم اور بعد میں شیخ محمد رضا ایسی سے پڑھی۔

نجف اشرف کی دینی درسگاہ میں

حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ، کہ جنہوں نے اٹھارہ سال کی عمر میں مشہد میں عظیم مرجع آیت اللہ العظمی میلانی مرحوم سے فقہ اور اصول کا درس خارج پڑھنا شروع کیا تھا، سن 1957 میں مقدس مقامات کی زيارت کے لیے نجف اشرف تشریف لے گئے اور سید محسن حکیم مرحوم،سید محمود شاہرودی ، میرزا باقر زنجانی ، سید یحیی ، یزدی اور میرزا حسن بجنوردی سمیت نجف اشرف کے عظیم مجتہدین کے دروس میں شرکت کی۔آپ کو یہاں درس و تدریس اور تحقیق کا معیار پسند آیا اور نجف میں تعلیم جاری رکھنے کے اپنے فیصلے سے اپنے والد کو آگاہ کیا لیکن وہ راضی نہ ہوئے چنانچہ آپ کچھ عرصے کے بعد مشہد واپس لوٹ آئے۔
 قم کی دینی درسگاہ میں
حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ سن 1958 سے لے کر سن 1964 تک قم کی دینی درسگاہ میں فقہ، اصول اور فلسفہ کی اعلی تعلیم میں مشغول رہے اور آیت اللہ العظمی بروجردی، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ ، شیخ مرتضی حائری یزدی اور علامہ طباطبائی جیسے عظیم اساتذہ سے کسب فیض کیا۔1964 میں قائد انقلاب اسلامی کو اپنے والد سے خط و کتابت کے بعد پتہ چلا ان کے والد کی ایک آنکھ کی بینائی موتیا کے مرض کی وجہ سے جا چکی ہے آپ کو یہ خبر سن کر بہت دکھ پہنچا۔آپ قم کی عظیم درسگاہ میں رہ کر اپنی تعلیم کو جاری رکھنے اور مشہد واپس جا کر اپنے والد کی دیکھ بھال کرنے کے سلسلے میں شش و پنج کا شکار ہو گئے۔ حضرت آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای اس نتیجے پر پہنچے کہ انہیں اللہ کی رضا کیلۓ مشہد واپس جانا چاہیے اور اپنے والد کی دیکھ بھال کرنی چاہیے۔اس بارے میں آپ فرماتے ہیں:
میں مشہد گیا اور خدا نے مجھے بہت زیادہ توفیقات عنایت فرمائیں۔بہرحال میں اپنے کام اور ذمہ داریوں میں مشغول ہوگيا۔اگر مجھے زندگی میں کوئی توفیق حاصل ہوئی ہے تو میرا یہ خیال ہے کہ وہ اس نیکی کا صلہ ہے جو میں نے اپنے والد اور والدہ کے ساتھ کی تھی۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اس دو راہے پر صحیح راستے کا انتخاب کیا۔آپ کے بعض اساتذہ اور ساتھی افسوس کرتے تھے کہ کیوں آپ نے اتنی جلدی قم کو چھوڑ دیا اگر وہ وہاں رہ جاتے تو آئندہ یہ بن جاتے وہ بن جاتے... لیکن مستقبل نے ظاہر کر دیا کہ ان کا فیصلہ صحیح تھا اور الہی فیصلے نے لوگوں کے اندازوں سے کہیں بہتر ان کی تقدیر لکھی تھی۔ کیا کوئی یہ سوچ سکتا تھا کہ یہ پچیس سالہ باصلاحیت عالم دین جو اپنے والدین کی خدمت کے لیے قم چھوڑ کر مشہد واپس چلا گيا تھا، پچیس سال بعد ولایت امر مسلمین کے اعلی مقام و مرتبے پر پہنچ جائے گا؟
آپ نے مشہد میں بھی اپنی اعلی تعلیم کا سلسلہ جاری رکھا اور تعطیلات،جدوجہد،جیل اور سفر کے علاوہ 1968 تک مشہد کے عظیم اساتذہ خصوصا" آیت اللہ میلانی سے با قاعدہ طور پر تعلیم حاصل کی۔اسی طرح سن 1964 سے کہ جب آپ مشہد میں مقیم تھے ، تعلیم حاصل کرنے اور بوڑھے اور بیمار والد کی دیکھ بھال اور خدمت کرنے کے ساتھ ساتھ آپ نوجوان طلبہ کو فقہ و اصول اور دینی علوم کی دیگر کتابیں بھی پڑھاتے تھے۔
سیاسی جدوجہد
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای بقول خود ان کے، امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے فقہی ، اصولی ،سیاسی اور انقلابی شاگردوں میں سے ہیں لیکن ان کے ذہن میں طاغوت کے خلاف دشمنی اور سیاست و جدوحہد کی پہلی کرن عظیم مجاہد اور شہید راہ اسلام سید مجتبی نواب صفوی نے ڈالی۔جب نواب صفوی چند فدائیان اسلام کے ساتھ سن 1952 میں مشہد گئے تو انہوں نے مدرسہ سلیمان خان میں احیائے اسلام اور احکام الہی کی حاکمیت کے موضوع پر ایک ولولہ انگیز تقریر کی اور شاہ اور برطانیہ کے مکر و فریب اور ملت ایران سے ان کے جھوٹ کا پردہ چاک کیا۔ حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ان دنوں مدرسہ سلیمان خان کے نوجوان طالب علم تھے، نواب صفوی کی جوشیلی تقریر سے آپ بہت متاثر ہوئے ۔آپ کہتے ہیں:اسی وقت نواب صفوی کے ذریعے میرے اندر انقلاب اسلامی کا جھماکہ ہوا چنانچہ مجھے اس بات میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ پہلی آگ نواب صفوی مرحوم نے میرے اندر روشن کی۔

امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی تحریک کے ہمراہ
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای سن 1962 سے کہ جب آپ قم میں تھے اور محمد رضا شاہ پہلوی کی اسلام مخالف اور امریکہ نواز پالیسیوں کے خلاف امام خمینی کی انقلابی اور احتجاجی تحریک شروع ہوئي ، سیاسی جدوجہد میں شامل ہو گئے اور بے پناہ نشیب و فراز ، جلاوطنی ، قید و بند اور ایذاؤں کے باوجود سولہ سال تک جدوجہد کرتے رہے اور کسی مقام پر بھی نہیں گھبراۓ ۔ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ نے انہیں پہلی ذمہ داری یہ سونپی کہ وہ ماہ محرم میں علمائے کرام کے تبلیغی مشن اور شاہ کی امریکی پالیسیوں کو آشکارہ کریں، ایران کے حالات اور قم کے واقعات کے بارے میں ان کا پیغام آیت اللہ میلانی اور خراسان کے علماء تک پہنچائيں ۔آپ نے یہ ذمہ داری بخوبی نبھائي اور خود بھی تبلیغ کے لیے بیرجند شہر گئے اور وہاں تبلیغ کے ضمن میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے پیغام کے تناظر میں پہلوی حکومت اور امریکہ کا پردہ چاک کیا چنانچہ آپ کو گرفتار کر لیا گیا اور ایک رات قید رکھنے کے بعد اگلے دن آپ کو اس شرط پر رہا کیا گيا کہ آپ منبر پر نہیں جائيں گے اور پولیس کی نگرانی میں رہیں گے۔پندرہ خرداد کے واقعے کے بعد آپ کو بیرجند سے مشہد لاکر فوجی جیل میں ڈال دیا گيا اور وہاں دس روز تک کڑی نگرانی میں رکھا گیا اور سخت ایذائيں دی گئيں۔
دوسری گرفتاری
جنوری سن 1963 مطابق رمضان تیرہ سو تراسی ہجری قمری کو حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای اپنے کچھ دوستوں کے ہمراہ ایک طے شدہ پروگرام کے تحت کرمان گئے۔کرمان میں دو تین دن ٹھہرنے ،تقریریں کرنے اور اس شہر کے علماء اور طلبہ سے ملاقات کرنے کے بعد زاہدان چلے گئے۔آپ کی جوشیلی اور ولولہ انگیز تقریروں خصوصا" چھ بہمن کو شاہ کے جعلی ریفرنڈم اور انتخاب کی سالگرہ کے دن آپ کی تقریر کو عوام نے بے حد پسند کیا۔ پندرہ رمضان کو امام حسن علیہ السلام کی ولادت کے روز پہلوی حکومت کی شیطانی اور امریکی پالیسیوں کا پردہ چاک کرنے والی آپ کی جوشیلی اور ولولہ انگيز تقریریں اپنے عروج پر پہنچ گئيں چنانچہ شاہ کی خفیہ ایجنسی ساواک نے آپ کو راتوں و رات گرفتار کر کے ہوائی جہاز کے ذریعے تہران روانہ کر دیا۔رہبر بزرگوار حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو تقریبا" دو ماہ تک قزل قلعہ نامی جیل میں قید تنہائی میں رکھا گيا۔ دوران قید آپ نے مختلف قسم کی ایذائیں اور توہین آمیز سلوک برداشت کیا۔
تیسری اور چوتھی گرفتاریاں
مشہد اور تہران میں آپ کے تفسیر و حدیث کے دروس اور اسلامی افکار و نظریات کا انقلابی نوجوانوں نے زبردست خیرمقدم کیا۔آپ کی ان سرگرمیوں سے شاہ کی خفیہ ایجنسی ساواک بھڑک اٹھی اور آپ کو گرفتار کرنا چاہا لہذا آپ نے سن 1966 میں تہران میں روپوشی کی زندگي اختیارکرلی تاہم ایک سال بعد یعنی 1967 میں آپ گرفتار کر لیے گئے ۔ رہائی کے بعد آپ کی انقلابی سرگرمیوں کے باعث ساواک نے آپ کو ایک بار پھر سن 1970میں گرفتار کر کے جیل میں ڈال دیا۔
پانچویں گرفتاری
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای مدظلہ العالی ساواک کے ہاتھوں اپنی پانچویں گرفتاری کے بارے میں لکھتے ہیں:
سن 1969 سے ایران میں مسلح تحریک کے آثار محسوس کیے جا رہے تھے۔ خفیہ اداروں کی میرے بارے میں حساسیت بھی بڑھ گئي تھی انہوں نے اندازہ لگا لیا تھا کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس قسم کی تحریک کا مجھ جیسے افراد سے تعلق نہ ہو۔ سن 1971 میں ایک بار پھر مجھے جیل میں ڈال دیا گيا۔جیل میں ساواک کے تشدد آمیز سلوک سے واضح طور پر ظاہر ہوتا تھا کہ اسے مسلح تحریک کے اسلامی فکر کے مراکز سے جڑے ہونے پر سخت تشویش ہے اور وہ اس بات کو قبول کرنے پر تیار نہیں تھے کہ مشہد اور تہران میں میرے نظریاتی اور تبلیغی مشن کا اس تحریک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ رہائی کے بعد میرے تفسیر کے عام دروس اور خفیہ کلاسوں کا دائرہ مزید بڑھ گيا۔
 چھٹی گرفتاری
1971 اور 1974 کے برسوں کے دوران حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے تفسیر اور انقلابی نظریات کے دروس اور تقاریر مشہد مقدس میں واقع مسجد کرامت ، مسجد امام حسین اور مسجد میرزا جعفر میں انجام پاتی تھیں جن میں انقلابی اور روشن فکر نوجوانوں اور طلبہ سمیت ہزاروں لوگ جوق در جوق شرکت کرتے تھے اور اسلام کے حقیقی نظریات سے آگاہ ہوتے تھے۔آپ کے نہج البلاغہ کے درس کا رنگ ہی کچھ اور تھا آپ کے نہج البلاغہ کے دروس فوٹو کاپی ہو کر لوگوں میں تقسیم ہوتے تھے۔ نوجوان اور انقلابی طلبہ جو آپ سے درس حقیقت اور جدوجہد کا سبق لیتے تھے ، ایران کے دور و نزدیک کے شہروں میں جا کر لوگوں کو ان نورانی حقائق سے آشنا کرکے عظیم اسلامی انقلاب کا راستہ ہموار کرتے۔ان سرگرمیوں کے باعث 1974عیسوی میں ساواک نے مشہد میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کے گھر پر دھاوا بول دیا اور آپ کو گرفتار کر کے آپ کی بہت سی تحریروں اور نوٹس کو ضبط کر لیا۔یہ آپ کی چھٹی اور سخت ترین گرفتاری تھی۔آپ کو 1975 کے موسم خزاں تک قید میں رکھا گيا۔ اس عرصے کے دوران آپ کو ایک کوٹھڑی میں سخت ترین حالات میں رکھا گيا اور خود آپ کے بقول صرف وہی ان حالات کو سمجھ سکتے ہیں جنہوں نے ان حالات کو دیکھا ہے۔جیل سے رہائي کے بعد آپ مشہد مقدس واپس آ گئے اور ماضی کی طرح علمی ، تحقیقی اور انقلابی عمل کو آگے بڑھایا۔ البتہ آپ کو پہلے کی طرح کلاسوں کی تشکیل کا موقع نہیں دیا گيا۔
شہر بدری
ظالم پہلوی حکومت نے سن 1977 کے اواخر میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای کو گرفتار کر کے تین سال کے لیے ایرانشہر شہر بدر کر دیا۔ سن 1978 کے وسط میں ایران کے مسلمان اور انقلابی عوام کی جدوجہد کے عروج پر پہنچنے کے بعد آپ شہر بدری سے آزاد ہو کر مشہد مقدس واپس آ گئے اورسفاک پہلوی حکومت کے خلاف عوام کی جدوجہد کی اگلی صفوں میں شامل ہو گئے ۔
راہ خدا میں انتھک جدوجہداور سختیاں برداشت کرنے کا نتیجہ یعنی ایران کے عظیم اسلامی انقلاب کی کامیابی اور ظالم پہلوی حکومت کا سقوط اور اس سرزمین میں اسلام کی حاکمیت کے قیام کا مشادہ آپ نے اپنی آنکھوں سے کیا۔
کامیابی سے قبل
اسلامی انقلاب کی کامیابی سے قبل امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی پیرس سے تہران واپسی سے پہلے ان کی طرف سے شہید مطہری، شہید بہشتی، ہاشمی رفسنجانی وغیرہ کی مانند مجاہد علما اور افراد پر مشتمل کمیٹی شورائ انقلاب اسلامی قائم کی گئی۔ حضرت آيت اللہ العظمی خامنہ ای بھی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے حکم پر اس کمیٹی کے رکن بنے۔ شہید مطہری نے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام آپ تک پہنچایا ۔ رہبر کبیر انقلاب اسلامی امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کا پیغام ملتے ہی آپ مشہد سے تہران آ گئے۔
کامیابی کے بعد
حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای نے اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد بھی اپنی انقلابی اور اسلامی سرگرمیاں بدستور جاری رکھیں اس دوران آپ مختلف عہدوں پر فائز رہے اور متعدد اہم کارنامے انجام دینے میں کامیاب ہوئے جس کی تفصیل کچھ یوں ہے۔
٭ فروری 1979 میں اپنے ہم خیال مجاہد علماء اور ساتھیوں کے تعاون سے جمہوری اسلامی پارٹی کی بنیاد رکھی۔
٭ 1979 میں نا‏ئب وزیردفاع بنے۔ 
٭ 1979میں ہی پاسداران انقلاب اسلامی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے۔
٭ 1979میں ہی بانی انقلاب اسلامی کی جانب سے دارالحکومت تہران کے امام جمعہ منصوب ہوئے 
٭ 1980 میں اعلی دفاعی کونسل میں امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کے نمائندےمقرر ہوئے
٭ 1979 میں پارلیمنٹ مجلس شورای اسلامی میں تہران کے نمائندے بنے
٭ 1970 میں امریکہ اور سابق سوویت یونین سمیت شیطانی اور بڑی طاقتوں کے اکسانے اور ان کی فوجی مدد سے ایران کی سرحدوں پر صدام کی جارحیت اور ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ شروع ہوتے ہی دفاع مقدس کے محاذوں پر فوجی لباس میں دشمن کے خلاف نبرد آزما ہوئے
٭ 1981 میں تہران میں واقع مسجد ابوذر میں انقلاب دشمن منافقین کےناکام قاتلانہ حملے میں شدید زخمی ہوئے
صدر مملکت 
ایران کے دوسرے صدر محمد علی رجائي کی شہادت کے بعد 1981 میں حضرت آیت اللہ العظمی خامنہ ای ایک کروڑ ساٹھ لاکھ سے زائد ووٹ حاصل کر کے امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی توثیق سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے۔ اسی طرح 1985 میں آپ دوسری بار صدر منتخب ہوئے۔
1981 میں ثقافتی انقلابی انجمن کے سربراہ بنے
1987 میں تشخیص مصلحت نظام کونسل کی سر براہی سنبھالی
1989 میں آئین پر نظر ثانی کرنے والی کونسل کے سربراہ مقرر ہوئے 
امت کی قیادت و ولایت 
رہبر کبیر انقلاب امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی رحلت کے بعد جون 1989 میں ماہرین کی کونسل نے اس اعلی عہدے اور عظیم ذمہ داری کے لیے آپ کو منتخب کیا۔ یہ انتخاب انتہائی مبارک اور صحیح تھا چنانچہ امام خمینی رحمۃ اللہ علیہ کی وفات کے بعد آپ نے نہایت مہارت سے ملت ایران بلکہ مسلمانان عالم کی قیادت و راہنمائی کی اور یہ عظیم اور الہی فریضہ آج بھی بخوبی نبھا رہے ہیں۔
تصنیف و تالیف
1- طرح کلی اندیشہ اسلامی در قرآن
2- از ژرفای نماز
3- گفتاری در باب صبر
4- چہار کتاب اصلی علم رجال
5- ولایت
6- گزارش از سابقہ تاریخی و اوضاع کنونی حوزہ علمیہ مشہد
7- زندگینامہ ائمہ تشیع(غیر مطبوعہ)
8- پیشوای صادق
9- وحدت و تحزب
10- ہنر از دیدگاہ آیت اللہ خامنہ ای 
11- درست فہمیدن دین
12- عنصر مبارزہ در زندگی ائمہ علیہم السلام
13- روح توحید، نفی عبودیت غیر خدا
14- ضرورت بازگشت بہ قرآن
15- سیرت امام سجاد علیہ السلام
16- امام رضا علیہ السلام و ولایت عہدی
17- تہاجم فرہنگی(قائد انقلاب کے پیغامات اور تقریروں پر مشتمل  کتاب)
18- حدیث ولایت(آپ کے پیغامات اور تقریروں پر مشتمل مجموعہ، اس کی اب تک نو جلدیں چھپ چکی ہیں)
19 اور۔ ۔ ۔ ۔ ۔
ترجمے
1- صلح امام حسن [ع] ،تصنیف آل یاسین۔
2- آیندہ در قلمرو اسلام، تصنیف سید قطب۔
3- مسلمانان در نہضت آزادی ہندوستان، تصنیف عبدالرحیم نمری نصری۔
4- ادعا نامہ علیہ تمدن غرب، تصنیف سید قطب۔
5- اور ۔ ۔ ۔ ۔





منبع : modir_amt | بازدید از پست : 150
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
السيرة الموجزة لآية الله العظمى الخامنئي(دام ظله)
امتیاز به پست : السيرة-الموجزة-لآية-الله-العظمى-الخامنئي(دام-ظله) السيرة-الموجزة-لآية-الله-العظمى-الخامنئي(دام-ظله) السيرة-الموجزة-لآية-الله-العظمى-الخامنئي(دام-ظله) السيرة-الموجزة-لآية-الله-العظمى-الخامنئي(دام-ظله) السيرة-الموجزة-لآية-الله-العظمى-الخامنئي(دام-ظله) نتیجه : 133 امتیاز توسط : 49 نفر

السيرة الموجزة لآية الله العظمى الخامنئي(دام ظله) طباعة


»هل لكم أن تجدوا شخصاً واحداً كالسيد الخامنئي ملتزماً بالإسلام، وخدوماً يريد من أعماق قلبه تقديم الخدمة لهذا الشعب...؟ لن تجدوا مثله. إنني أعرفه منذ أعوام طويلة«. الإمام الخميني (قدس سره)

من الولادة إلى المدرسة
ولد سماحة قائد الثورة الإسلامية آية الله السيد علي الخامنئي نجل المرحوم حجة الإسلام والمسلمين الحاج السيد جواد الحسيني الخامنئي، يوم 24/4/1318ش الموافق لـ 28 صفر 1358هـ (15/7/1939م) في مدينة مشهد المقدسة. وكان ثاني أولاد العائلة. كانت حياة والده السيد جواد الخامنئي متواضعة جداً كمعظم رجال الدين وأساتذة العلوم الدينية. وقد تعلّم منه أبناؤه وزوجته المعنى الحقيقي للقناعة والحياة البسيطة وألفوها واعتادوا عليها. في معرض حديثه عن الذكريات الأولى من حياته، قال سماحة القائد عن أحوال عائلته: »كان والدي رجل دين معروف، لكنه شديد الورع والعزلة... حياتنا كانت صعبة. أتذكر ليالي لم نكن نجد فيها ما نتعشى به في منـزلنا! والدتي كانت تعد لنا العشاء بصعوبة... ولم يكن عشاؤنا ذاك سوى الخبز والزبيب«.
»بيت والدي الذي ولدت فيه وعشت حتى الرابعة أو الخامسة من عمري، كانت مساحته 60 إلى 70 متراً في حي فقير من أحياء مشهد. كانت فيه غرفة واحدة وقبو مظلم موحش! حينما كان يزور والدي ضيفٌ (وكثيراً ما كان لوالدي ضيوفه لأنه رجل دين يراجعه الناس بكثرة) كان يجب علينا جميعاً أن ننـزل إلى القبو حتى يخرج الضيف. بعد ذلك اشترى جماعة من محبّي والدي أرضاً صغيرةً بجوار هذا البيت وأضافوها إليه فصارت لنا ثلاث غرف«. هكذا نشأ وترعرع، وقصد الكتّاب مع أخيه الأكبر السيد محمد منذ الرابعة من عمره ليتعلم الأبجدية والقرآن. بعد ذلك قضى الشقيقان فترة الدراسة الابتدائية في مدرسة »دار التعليم ديانتي« الإسلامية حديثة التأسيس.
في الحوزة العلمية
بعد دراسته لجامع المقدمات والصرف والنحو في المدرسة الثانوية، إلتحق بالحوزة العلمية، ودرس الآداب والمقدمات عند والده وغيره من الأساتذة آنذاك. »روحانية أبي هي العامل والسبب الأساس في اختياري لهذا الطريق النـيّر، وكانت والدتي أيضاً راغبة في هذا المنحى وتشجعني على خوضه«. درس في »سليمان خان« و»نواب«، وأشرف الوالد على دراسة أولاده. درس كتاب »المعالم« أيضاً خلال هذه الفترة. ثم درس »شرائع الإسلام« و»شرح اللمعة« عند أبيه ولدى المرحوم »آقا ميرزا مدرس يزدي« والرسائل والمكاسب عند المرحوم الحاج الشيخ هاشم قزويني، وسائر دروس السطوح في الفقه والأصول عند والده، وفرغ من دورة المقدمات والسطوح بشكل نادر ومذهل خلال خمسة أعوام ونصف العام. وقد كان للمرحوم والده السيد جواد دور كبير في تطور ولده البار خلال كل هذه المراحل. وفي مجال المنطق والفلسفة، درس سماحة القائد منظومة السبزواري لدى المرحوم آية الله ميزراجواد طهراني، ثم عند المرحوم الشيخ رضا أيسي.
في حوزة النجف الأشرف
في الثامنة عشرة بدأ آية الله الخامنئي دراسة البحث الخارج في الفقه والأصول عند المرجع الكبير المرحوم آية الله العظمى الميلاني في مدينة مشهد. وفي سنة 1957م قصد النجف الأشرف لزيارة العتبات المقدسة فيها وشارك هناك في دروس البحث الخارج لمجتهدين كبار منهم المرحوم السيد محسن الحكيم، والسيد محمود الشاهرودي، والميرزا باقر الزنجاني، والسيد يحيى اليزدي، والميرزا حسن البجنوردي، وراقته أوضاع الدراسة والتدريس في تلك الحوزة العلمية فأطلع أبيه على رغبته في المكوث هناك لطلب العلم، لكن الوالد لم يوافق، لذلك عاد بعد مدة إلى مشهد.
في الحوزة العلمية بقم المقدسة
عكف آية الله الخامنئي منذ 1958 حتى 1964م على دراساته العليا في الفقه والأصول والفلسفة في الحوزة العلمية بمدينة قم وتتلمذ على يد علماء كبار كالمرحوم آية الله العظمى البروجردي، والإمام الخميني، والشيخ مرتضى الحائري اليزدي، والعلامة الطباطبائي. في سنة 1964م، علم سماحة القائد عبر مراسلاته مع أبيه أن إحدى عيني والده قد كفّت وابيضّت، فحزن لذلك بشدة وتحيّر بين البقاء في قم لمواصلة الدراسة في حوزتها العظيمة أو العودة إلى مشهد لرعاية والده. وأخيراً رجّح العودة من قم إلى مشهد في سبيل الله والعمل على رعاية أبيه. يقول بهذا الصدد: »عدت إلى مشهد وقد منَّ الله تعالى عليَّ بالكثير من التوفيق. على كل حال ذهبت لأداء واجباتي ووظيفتي. إن كنت قد أصبتُ توفيقاً في حياتي فاعتقد أنه نتيجة هذا البر الذي عاملت به والدي، بل والدي ووالدتي معاً«. على مفترق هذين الطريقين، اختار آية الله الخامنئي الطريق الصحيح. بعض الأساتذة والأصدقاء كانوا يتحسرون على سرعة تركه الحوزة العلمية في قم، ولو كان قد بقي فيها لصار كذا وكذا...! لكن المستقبل أثبت أن اختياره كان صائباً وأن يد المقادير الإلهية كتبت له مصيراً أفضل وأسمى من حساباتهم. هل كان أحد يتصور آنذاك أن الشاب العالم الموهوب ذي الـ 25 عاماً الذي عاد من قم إلى مشهد لخدمة أبيه وأمه طلباً لرضوان الله، سيتولّى بعد 25 عاماً منصب ولاية أمر المسلمين الرفيع؟! لم يكفّ في مشهد عن مواصلة الدراسة، وما عدا أيام العطل أو الكفاح والسجن والسفر، تابع رسمياً دراسته الفقهية والأصولية حتى سنة 1968م على يد كبار أساتذة الحوزة العلمية في مشهد لا سيما آية الله الميلاني. كما اشتغل منذ سنة 1964م حين أقام في مشهد بتدريس الفقه والأصول والعلوم الدينية للطلبة الشباب وطلاب الجامعات إلى جانب دراسته في الحوزة ورعايته لوالده الكبير المريض.
الكفاح السياسي
آية الله الخامنئي على حد تعبيره »من تلاميذ الإمام الخميني (ره) في الفقه، والأصول، والسياسة، والثورة«، إلا أن البوارق الأولى للتحرك السياسي والعمل النضالي ضد الطاغوت أشعلها في ذهنه المجاهد الكبير وشهيد درب الإسلام السيد مجتبى نواب صفوي. حينما توجه نواب صفوي مع ثلة من »فدائيي الإسلام« إلى مشهد سنة 1952م ألقى خطاباً توعوياً حماسياً في مدرسة »سليمان خان« حول إحياء الإسلام وسيادة الأحكام الإلهية، وأحابيل الشاه وخداع الإنجليز وأكاذيبهم على الشعب الإيراني. كان آية الله الخامنئي حينها من الطلبة الشباب في مدرسة »سليمان خان« وتأثر بشدة بالكلام الناري لنواب صفوي. يقول: »منذ ذلك الحين اشتعلت فيَّ بوارق الثورة الإسلامية على يد نواب صفوي، ولا أشك أبداً في أن النار الأولى أشعلها المرحوم نواب في قلوبنا«.
في نهضة الإمام الخميني (قدس سره)
منذ سنة 1962م حينما كان آية الله الخامنئي في قم وانطلقت الحركة الثورية المعارضة للإمام الخميني ضد سياسات محمد رضا بهلوي المناوئة للإسلام والممالئة لأمريكا، انخرط هو أيضاً في عمليات الكفاح السياسي التي واصلها طوال 16 عاماً بكل ما لاقاه فيها من منعطفات وتعذيب ونفي وسجون، ولم يخش في هذا السبيل أية مخاطر. في شهر محرم سنة 1959م كُلِّف من قبل الإمام الخميني (قدس سره) لأول مرة أن يبلغ رسالة الإمام لآية الله الميلاني وعلماء خراسان بشأن كيفية التبليغ الذي يعتمده رجال الدين في شهر محرم وكشفهم الحقائق ضد سياسات الشاه الأمريكية وأوضاع إيران وأحداث قم. نفّذ السيد الخامنئي هذه المهمة وتوجه بنفسه للتبليغ في مدينة بيرجند فطفق ينوّر الأذهان ويكشف الحقائق ضد النظام البهلوي وأمريكا استجابة لنداء الإمام الخميني. وبسبب ذلك ألقي عليه القبض في التاسع من محرم (12 خرداد 1342ش - 2/6/1963م) وأطلق سراحه في اليوم التالي شريطة أن لا يرتقي المنبر ثانية ويخضع لرقابة الأجهزة الأمنية. مع نشوب حادثة 15 خرداد (4/6/1963م) الدامية، ألقي عليه القبض مرة أخرى في بيرجند ونقلوه إلى مشهد فسلموه للمعتقل العسكري وسجن هناك عشرة أيام تعرض فيها لأشد ألوان التعذيب والإيذاء والظروف السيئة.
الاعتقال الثاني
في بهمن 1342ش (شباط 1964م)، رمضان 1383هـ، توجه آية الله الخامنئي مع كوكبة من أصدقائه إلى كرمان وفق برنامج عمل مدروس. وبعد يومين أو ثلاثة من المكوث في كرمان وإلقاء المحاضرات والتحدث من على المنابر واللقاء بالعلماء والطلبة في تلك المدينة، قصد إلى زاهدان، وحظيت خطبه الحماسية هناك لا سيما في يوم السادس من بهمن - ذكرى الاستفتاء المزيف الذي أطلقه الشاه - بإقبال جماهيري واسع. وفي يوم الخامس عشر من رمضان ذكرى ولادة الإمام الحسن المجتبى (ع) بلغت صراحته وشجاعته وحماسه الثوري في فضح السياسات الشيطانية الأمريكية للنظام البهلوي، ذروتها فألقى السافاك القبض عليه ليلاً ونقلوه إلى طهران جواً. بقي قائد الثورة حوالي شهرين في زنزانة انفرادية في سجن »قزل قلعة« صابراً على شتى صنوف الإهانة والتعذيب.
الاعتقالان الثالث والرابع
لاقت دروسه التي كان يلقيها في التفسير والحديث والفكر الإسلامي في مشهد وطهران إقبالاً نادراً من قبل الشباب الثوري المتوثب، فأدت هذه الأنشطة إلى غضب السافاك ما دعاهم إلى ملاحقته. لهذا كان يعيش سنة 1966م في طهران متخفياً، وبعد سنة واحدة أي في عام 1967م ألقي عليه القبض وسجن. وأفضت هذه الأنشطة العلمية وإقامته جلسات التدريس والتوعية والإصلاح إلى اعتقاله وسجنه مرة أخرى من قبل أجهزة السافاك البهلوي الجهنمية سنة 1970م.
الاعتقال الخامس
يكتب آية الله الخامنئي (مد ظله) حول اعتقاله الخامس من قبل السافاك: »منذ سنة 48(1) كانت مقدمات العمل المسلح في إيران أمراً محسوساً. وقد ازدادت حساسية أجهزة النظام السابق وتشددها معي لأن القرائن كانت تؤكد لهم أن مثل هذا التيار لا يمكنه أن يكون عديم الصلة بأشخاص مثلي. في سنة 50(2) سجنت تارةً أخرى وللمرة الخامسة. التعامل العنيف للسافاك في السجن كان يشير بوضوح إلى فزع النظام من اقتراب تيارات الكفاح المسلح إلى أروقة الفكر الإسلامي، وأنه لا يمكن الاقتناع بأن نشاطاتي الفكرية والتبليغية في مشهد وطهران كانت بمعزل عن تلك التيارات. بعد إطلاق سراحي اتسعت رقعة دروس التفسير العامة، والدروس الإيديولوجية السرية و... «.
الاعتقال السادس
ما بين 1971 - 1974م كانت دروس التفسير والإيديولوجيا التي يلقيها سماحة آية الله الخامنئي تقام في ثلاثة مساجد بمدينة مشهد المقدسة هي مسجد »كرامت«، ومسجد »الإمام الحسن (ع)«، ومسجد »ميرزا جعفر«. وكان الآلاف من الناس المشتاقين ولا سيما الشباب الواعي والمستنير والطلاب الثوريين المؤمنين يقصدون هذه المساجد الثلاثة ليتعرفوا فيها على الأفكار الإسلامية الأصيلة.
دروسه التي كان يلقيها في شرح نهج البلاغة تميزت بأجواء ساخنة وجاذبية خاصة فكانت تستنسخ وتوزع على شكل كراريس حملت عنوان »أضواء من نهج البلاغة«. الطلاب الثوريون الشباب الذين كانوا يتلقون على يديه دروس الحقيقة والكفاح، كانوا يتوجهون إلى مدن إيران القريبة والبعيدة يعرفون الناس بتلك الحقائق النيرة ويمهدون الأرضية للثورة الإسلامية الكبرى. دفعت هذه الأنشطة عناصر السافاك إلى اقتحام منـزل آية الله الخامنئي في مشهد بكل وحشية في شتاء 1975م (10/1353ش) واعتقاله ومصادرة الكثير من كتاباته ومخطوطاته. كان هذا اعتقاله السادس والأصعب حيث بقي معتقلاً في سجن اللجنة المشتركة للشرطة حتى خريف 1975م، وكان طوال هذه المدة محبوساً في زنزانة سيئة الظروف للغاية. الصعوبات التي تحملها في اعتقاله هذا »لا يمكن فهمها إلا لمن عاشوا تلك الظروف« على حد تعبيره. بعد إطلاق سراحه عاد إلى مشهد المقدسة واستأنف مشاريعه وجهوده العلمية والبحثية والثورية، لكنه لم يتمكن هذه المرة من إقامة دروسه وجلساته السابقة.
في المنفى
في نهايات عام 1356ش (آذار 1978م) اعتقل نظام الإجرام البهلوي آية الله الخامنئي ونفاه إلى إيرانشهر مدة ثلاث سنوات. وفي أواسط سنة 1357ش (آب أو أيلول 1978م) أطلق سراحه من المنفى مع تصاعد الجهاد الشعبي العام للجماهير الثورية المسلمة في إيران، واستطاع العودة إلى مدينة مشهد المقدسة ليأخذ موقعه في طليعة صفوف الجماهير المناضلة ضد النظام البهلوي السفاح، ليرى بعد 15 عاماً من الكفاح البطولي والجهاد والصمود في سبيل الله والصبر على كل تلك المحن والمرارات، ثمرة النهضة والمقاومة والجهاد في انتصار الثورة الإسلامية الكبرى في إيران والسقوط الذليل للحكم البهلوي المنقوع بالجور والعار، وسيادة الإسلام في هذه الأرض الطيبة.
عشية الانتصار
عشية انتصار الثورة الإسلامية، شكّل الإمام الخميني (قدس سره) بعد عودته من باريس إلى طهران »شورى الثورة الإسلامية« بعضوية شخصيات مجاهدة من قبيل الشهيد مطهري، والشهيد بهشتي، والشيخ هاشمي رفسنجاني و...، وكان آية الله الخامنئي أيضاً عضواً في هذه الشورى بأمر من الإمام الخميني. أبلغه الشهيد مطهري (ره) برسالة الإمام هذه، ما دعاه للانتقال من مشهد إلى طهران.
واصل آية الله الخامنئي بعد انتصار الثورة الإسلامية نشاطاته الإسلامية القيمة بكل اندفاع وحماس وبغية الاقتراب من أهداف الثورة الإسلامية أكثر فأكثر، وكانت جميع هذه النشاطات فريدة من نوعها وبالغة الأهمية في حينها، وفيما يلي نشير إلى أبرزها:
- تأسيس »الحزب الجمهوري الإسلامي« بالتعاون والتنسيق مع كبار العلماء المجاهدين من رفاق دربه: الشهيد بهشتي، والشهيد باهنر، وهاشمي رفسنجاني، و.... في آذار 1979م.
- وكيل وزارة الدفاع سنة 1979م.
- المشرف على حرس الثورة الإسلامية 1979م.
- إمام جمعة طهران 1979م.
- ممثل الإمام الخميني (قدس سره) في مجلس الدفاع الأعلى 1980م.
- نائب أهالي طهران في مجلس الشورى الإسلامي 1979م.
- مشاركاته الفاعلة المخلصة بزي القتال في جبهات الدفاع المقدس مع اندلاع الحرب المفروضة من قبل العراق على إيران سنة 1980م، واعتداء الجيش الصدامي على الحدود الإيرانية بمعداتٍ وتحريضٍ من القوى الشيطانية الكبرى كأمريكا والاتحاد السوفيتي السابق.
- محاولة اغتياله الفاشلة من قبل المنافقين في 27/7/1981م في مسجد أبي ذر بطهران.
- رئاسته للجمهورية إثر استشهاد محمد علي رجائي ثاني رؤساء الجمهورية في إيران، حيث تولى مهام رئاسة الجمهورية الإسلامية في إيران في اكتوبر سنة 1981م بعد فوزه بـ 16 مليون من أصوات الشعب وتنفيذ حكم رئاسته من قبل الإمام الخميني. كما تولى مهام الرئاسة لولاية أخرى من سنة 1985 حتى 1989م.
- رئاسة المجلس الأعلى للثورة الثقافية 1981م.
- رئاسة مجمع تشخيص مصلحة النظام 1987م.
- رئاسة شورى إعادة النظر في الدستور 1989م.
- تولي قيادة الأمة وولاية أمرها منذ 4/6/1989م إثر رحيل قائد الثورة الإسلامية الكبير الإمام الخميني، بانتخاب مجلس خبراء القيادة، وكم كان انتخاباً مباركاً وصائباً اختياره لهذا الموقع الرفيع والمسؤولية الجسيمة بعد رحيل الإمام، حيث استطاع بكل جدارة قيادة الأمة الإسلامية في إيران، بل والمسلمين في العالم.
المؤلفات والبحوث
1- الهيكلية العامة للفكر الإسلامي في القرآن.
2- من أعماق الصلاة.
3- مقال في الصبر.
4- الكتب الأربعة الرئيسية في علم الرجال.
5- الولاية.
6- استعراض للماضي التاريخي والواقع الراهن في الحوزة العلمية بمشهد المقدسة.
7- حياة أئمة التشيع (غير مطبوع).
8- الإمام الصادق (ع).
9- الوحدة والتحزب.
10- الفن من منظور آية الله الخامنئي.
11- الفهم الصحيح للدين.
12- عنصر الكفاح في حياة الأئمة (عليهم السلام).
13- روح التوحيد رفض عبودية ما سوى الله.
14- ضرورة العودة إلى القرآن.
15- سيرة الإمام السجاد (عليه السلام).
16- الإمام رضا (عليه السلام) وولاية العهد.
17- الغزو الثقافي (مختارات من كلماته ونداءاته).
18- حديث الولاية (مجموعة نداءاته وكلماته - صدر منه لحد الآن 9 مجلدات).
و...
الترجمات:
1- صلح الحسن (ع)، تأليف الشيخ راضي آل ياسين.
2- المستقبل لهذا الدين - تأليف سيد قطب.
3- المسلمون في نهضة التحرر في الهند - تأليف عبد المنعم النمري النصري.
4- بيان ضد الحضارة الغربية - تأليف سيد قطب.





منبع : سایت مقام معظم رهبری | بازدید از پست : 123
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
Leader: Enemies Seeking to Impair Revolution Icons, Values
امتیاز به پست : Leader:-Enemies-Seeking-to-Impair-Revolution-Icons,-Values Leader:-Enemies-Seeking-to-Impair-Revolution-Icons,-Values Leader:-Enemies-Seeking-to-Impair-Revolution-Icons,-Values Leader:-Enemies-Seeking-to-Impair-Revolution-Icons,-Values Leader:-Enemies-Seeking-to-Impair-Revolution-Icons,-Values نتیجه : 215 امتیاز توسط : 73 نفر

"Undermining ... the icons and pillars of the Revolution and Islam, specially the city of Qom, has been one of the propaganda plans pursued by the Islamic Republic's opponents...."

TEHRAN, Oct. 27, 2010, Farsnews - Supreme Leader of the Islamic Revolution Ayatollah Seyed Ali Khamenei warned on Wednesday that enemies have hatched plots to impair the pillars, icons and values of the Islamic Revolution through strong support for anti-revolutionary elements.



"Undermining and despising the icons and pillars of the Revolution and Islam, specially the city of Qom, has been one of the propaganda plans pursued by the Islamic Republic's opponents during the last 30 years," Ayatollah Khamenei said, addressing a number of officials of the central Qom province. 

"The holy city of Qom is the face and reputation of the Islamic Republic of Iran since this city is the base of the Revolution and clergymen and hosts the biggest religious school and prominent scientific and religious figures," he added. 

Ayatollah Khamenei noted that the extensive propaganda campaign launched by the foreign media against Qom during his visit to the city in the last few days proves the importance of the holy city. 

The Leader underlined that Qom, which is the base of Islam's greatness and grandeur and hoists the Revolution's flag, has always been the target of the specific plans and plots of the enemy front, including enemy's plots for creating an anti-revolution center in Qom to oppose the Islamic Revolution right at its heart. 

The Iranian Supreme Leader started a 9-day visit to Qom on October 19. Upon arrival, he was extended an astonishingly warm welcome by tens of thousands of people who had been waiting for him for days. 

Analysts believe that the wide public welcome broadcast live on Iran's state-run TV signifies the highest rate of the Iranian Leader's popularity among the masses of the people from all the different walks of life, and proves the nation's strong relationship and support for the Islamic establishment, insuring the country against any potential enemy invasion.





منبع : تابناک | بازدید از پست : 58
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
Knowledge main pillar of seminaries: Leader
امتیاز به پست : Knowledge-main-pillar-of-seminaries:-Leader Knowledge-main-pillar-of-seminaries:-Leader Knowledge-main-pillar-of-seminaries:-Leader Knowledge-main-pillar-of-seminaries:-Leader Knowledge-main-pillar-of-seminaries:-Leader نتیجه : 250 امتیاز توسط : 83 نفر

“The main pillar of seminaries is based on knowledge and therefore the seminary should be in conformity with "knowledge-oriented" requirements."

 

Press TV
Oct. 24, 2010
 
Leader of the Islamic Revolution Ayatollah Seyyed Ali Khamenei says knowledge is the real identity of seminaries, urging compliance with the perquisites of such a knowledge-based context.


“The main pillar of seminaries is based on knowledge and therefore the seminary should be in conformity with "knowledge-oriented" requirements, said Ayatollah Khamenei in a meeting with scholars, clerics and students of Qom's seminaries on Sunday. 

The Leader added that seminaries should welcome questions and doubtful challenges over various issues and said that such an approach would show the consistency of seminaries to their knowledge-based identity. 

The Leader pointed out that all "knowledge-oriented" bodies, including seminaries, should openly face challenging questions. 

He referred to very serious and challenging arguments throughout the history of the seminaries and said, "This valuable approach should be maintained in different fields.” 

Ayatollah Khamenei stressed the importance of promoting free thinking in seminaries, saying, "Free thinking is the result of a knowledge-based mind and prejudice in the field of knowledge is meaningless.” 

He described as a "big accusation" certain remarks about the lack of a free atmosphere for criticism in seminaries and said people of thought and contemplation are free to express their views and thoughts in all fields. 

The Leader said opposing the suppression of views has always been an admirable tradition in seminaries and emphasized, "Seminaries should not use thoughtless ways to reject opposing views.” 

"You should face false opinions with firmness and prudence," Ayatollah Khamenei further explained. 

He noted that education in seminaries should be based on thought, research and study, and welcomed modern methods in teaching and the production of science. 

The Leader pointed to the hostility of arrogant powers, particularly the US and Israel, towards the spreading of religion and stated, “Measures such as the offensive cartoons of Prophet Mohammad and the burning of the Holy Qur'an show the deep evil nature of the enemies of Islam.” 

“Seminaries cannot keep silent on such enmities and will take a vigilant stance on arrogant powers," emphasized Ayatollah Khamenei. 

The Leader also urged the religious elite to draw up strategies for the educational, cultural and social development of Iran. 

END





منبع : تابناک | بازدید از پست : 72
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
خطاب السيد نصر الله: سقوط الإجماع علي المحكمة وبداية مرحلة جديدة من التعامل معها
امتیاز به پست : خطاب-السيد-نصر-الله:-سقوط-الإجماع-علي-المحكمة-وبداية-مرحلة-جديدة-من-التعامل-معها خطاب-السيد-نصر-الله:-سقوط-الإجماع-علي-المحكمة-وبداية-مرحلة-جديدة-من-التعامل-معها خطاب-السيد-نصر-الله:-سقوط-الإجماع-علي-المحكمة-وبداية-مرحلة-جديدة-من-التعامل-معها خطاب-السيد-نصر-الله:-سقوط-الإجماع-علي-المحكمة-وبداية-مرحلة-جديدة-من-التعامل-معها خطاب-السيد-نصر-الله:-سقوط-الإجماع-علي-المحكمة-وبداية-مرحلة-جديدة-من-التعامل-معها نتیجه : 235 امتیاز توسط : 76 نفر

طاب السيد نصر الله: سقوط الإجماع علي المحكمة وبداية مرحلة جديدة من التعامل معها
بيروت/ 28 تشرين الأول/ أكتوبر - لعل إطلالة الأمين العام لحزب الله سماحة السيد حسن نصر الله عبر شاشة تلفزيون 'المنار' مساء أمس هي أقصر الإطلالات التي بدأها منذ انتهاء حرب تموز 2006، رغم حساسية موضوع هذه الإطلالة وأهمية مضمونها ورسائلها المتعددة.
 
وعلي الرغم من أن السيد استهل إطلالته بالموضوع الفلسطيني فرض نفسه علي كل التطورات في إشارة منه إلي أن القضية الفلسطينية بالنسبة لحزب الله لا تزال وستبقي هي القضية المركزية للأمة وتحتل كل أولوياتها وفي حلها حل لكل مشكلات الأمة، فإن خطابه بالأمس لم يستغرق أكثر من 20 دقيقة بموضوعيه الطارئ وهو العدوان الصهيوني علي أهالي مدينة أم الفحم في شمال فلسطين المحتلة ودلالاته، وموضوعه الثاني وهو أداء وسلوك المحكمة الدولية الخاصة بقضية اغتيال رفيق الحريري، والمنحي الذي نحا إليه المحققون التابعون لهذه المحكمة، من خلال مداهمتهم لعيادة طب نسائي يرتادها، نساء معظمهن ممن لهن علاقة قربي نسبية برجال المقاومة وقادتها. 
لا شك أن أسلوب الاختصار الذي اعتمده السيد نصر الله في خطاب العشرين دقيقة لم يكن الهدف منه مراعاة برامج تلفزيون 'المنار'، وإنما 
جاء علي قاعدة 'خير الكلام ما قل ودل' في محاولة لتبسيط الأمور علي من تشكل عليه فهم الرسائل المتعددة التي تضمنها هذا 'الخطاب التاريخي' وتوخياً للوصول إلي الغاية منه وعدم السماح لأي محاولة تضليلية قد يلجأ إليها فريق المختصصين بالتضليل والتحوير من خصوم حزب الله وقوي المعارضة. 
لقد أراد السيد نصر الله أن يبسط خطابه هذه المرة، رغم أنه موجه إلي الداخل اللبناني وإلي الخارج ممن يقف خلف المحكمة الدولية وأهدافها وغاياتها المشبوهة، بدءاً من الكيان الصهيوني مروراً بالأمم المتحدة ومجلس الأمن، وصولاً إلي الإدارة الأميركية وأدواتها العربية والأجنبية. 
لقد أراد السيد نصر الله أن يفهم كل من يعنيهم خطابه أن للصبر حدوداً وأن استباحة فرق المحققين الدوليين لخصوصيات الناس ليست مسموحة إلي ما لا نهاية، وأن هؤلاء الناس طفح الكيل لديهم وباتوا لا يحتملون هذا الأداء وهذا السلوك اللأخلاقي الذي حاول المس بأعراضهم وشرفهم وكرامتهم. 
ومن الواضح أن 'خطاب العشرين دقيقة' كان مشحوناً بعشرات الرسائل وفي اتجاهات مختلفة وهي من النوع الذي لا يستعصي فهمها علي من أراد أن يفهمها، ومنها ما هو موجه للأمم المتحدة ويعلن فيه السيد نصر الله انتهاء مرحلة التعاون مع لجنة التحقيق الدولي في جريمة اغتيال الحريري، والتي امتدت علي مدي خمس سنوات رغم عدم اعتراف حزب الله بالمحكمة الدولية وتحفظه علي طريقة تهريبها من حكومة فاقدة لشرعيتها الدستورية آنذاك برئاسة فؤاد السنيورة . 
ومنها أيضاً ما هو موجه إلي عائلة الرئيس الحريري و'تيار المستقبل' ويعلن فيه السيد نصر الله طي صفحة مراعاة الخواطر العائلية والاعتبارات السياسية، التي استمرت أيضاً أكثر من خمس سنوات، وتحمل خلالها حزب الله وقوي المعارضة ما تحملوه . 
ومنها أيضاً الإعلان عن إطلاق مرحلة جديدة من التعامل مع المحكمة الدولية وفريقها من المحققين، مرحلة عنوانها أن ما بعد خطاب العشرين دقيقة ليس كما قبله. 
ومن هذه الرسائل الإعلان عن سقوط الإجماع اللبناني حول المحكمة الدولية، وهذه رسالة موجهة إلي كل من أعلن تأييده ودعمه لما يجمع عليه اللبنانيون وآخرهم الرئيس الفرنسي نيكولا ساركوزي الذي أبلغه الرئيس اللبناني ميشال سليمان خلال لقائهما في سويسرا علي هامش القمة الفرنكوفونية، أن فرنسا مستعدة لدعم اي موقف جديد يجمع عليه اللبنانيون في إشارة واضحة إلي استعدادها لتأييد قرار إلغاء المحكمة إذا كان محل إجماع اللبنانيين في الحكومة. 
وتوجه السيد نصر الله بعدد كبير من رسائله إلي الشعب اللبناني وجمهور المقاومة والغياري علي أعراضهم وشرفهم وكراماتهم، لافتاً في هذه الرسائل إلي أن المحققين الدوليين والمحكمة وأدواتها وأجهزتها وخلفيتها ومن يقف وراءها يعملون في خدمة المشروع الأميركي الصهيوني وأهدافه، وأن أجهزة استخبارات عالمية وأميركا والكيان الصهيوني يستبيحون لبنان وخصوصيات اللبنانيين بكل فئاتهم لا سيما الشبابية منها تحت ستار 'المحكمة الدولية'، وقد حصلوا من خلال هذا الستار علي 'داتا' المعلومات في كل قطاع الاتصالات الهاتفي بشقيه الأرضي والخلوي والانترنتي، كما حصلوا علي ملفات طلاب الجامعات والثانويات الرسمية والخاصة، وحصلوا علي أرشيف الأمن العام بكل ما يتضمنه من معلومات شخصية وعناوين سكن وبصمات الكف والأصابع، وكذلك علي ملفات مشتركي الهاتف والكهرباء والضمان الاجتماعي وغيرها الكثير الكثير، لافتاً إلي أن المحققين نقلوا كل ما حصلوا إلي العدو الصهيوني لتعزيز بنك أهدافه ومعلوماته في أي حرب مقبلة. 
وكرس السيد نصر الله في خطاب العشرين دقيقة رفض حزب الله للمحكمة الدولية ولكل نتائج التحقيقات التي أجراها هؤلاء المحققون الجواسيس، وبالتالي رفض أي قرار ظني يصدر عن المحكمة، طالما أن هدفها لم يوجه نحو العدو الصهيوني المتهم الأول والرئيس في قضية اغتيال الحريري. 
كذلك كرس السيد نصر الله حقيقة أن 'المحكمة مسيسة' وأن هدفها الوحيد العمل علي استكمال ما بدأه العدو الصهيوني في حرب تموز 2006 من استهداف للمقاومة ولذلك وجه سماحته ما يشبه رسالة تحذير إلي كل من يتعاون مع المحققين بأنه يساعد في العدوان علي المقاومة. وهذه رسالة تستبطن أخري يلمح من خلالها السيد إلي طريقة تعاطي المقاومة مع المتعاونين مع المحكمة كأعداء أو عملاء. لأن هذه المحكمة أصبحت بالدليل القاطع مجرد أداة لمشروع أميركي صهيوني يستهدف القضاء علي المقاومة وليس كشف قتلة الرئيس الحريري والاقتصاص منهم. 

ولا شك أن من فهم رسالة التحذير هذه، سيفهم أيضاً أن موقف حزب الله والمعارضة لن يكون أقل مما كان عليه موقفهم في مواجهة القرارات التي اتخذتها حكومة فؤاد السنيورة عندما فاقدة لشرعيتها الدستورية في 5 أيار/ مايو 2008 والتي استهدفت المس بشبكة الاتصالات الخاصة بالمقاومة والمسؤولين عنها. والتي أنتجت ما بات يعرف بـ'أحداث السابع من أيار'. 
وتوجه السيد نصر الله برسالة إلي المواطنين أعطاهم فيها الضوء الأخضر لمواجهة المحققين وأدوات المحكمة، بما يقتضيه ويمليه عليهم الحفاظ علي الشرف والعرض والكرامات، والسيد هنا يدرك أن الفئة التي توجه إلها بهذه الرسالة ستفهمها علي أنها إجازة شرعية للاستشهاد في سبيل الدفاع عن العرض والشرف. 
وأنهي السيد رسائله بتوجيه رسالة خاصة إلي 'جوقة' 14 آذار التي تحاول استغلال كل خطاب أو موقف لحزب الله لشن هجوم جديد، واضعاً لهؤلاء حداً لحجم الردود المتوقعة منهم، مستخدماً لهجة التحدي بقوله: 'من منكم يقبل أن يأتي أي أحد ليطلع علي ملف زوجته أو والدته أو أخته أو ابنته؟'، ليقول بذلك أن من يرد علي هذا الموقف إنما يقبل المس بشرفه وعرضه وكرامته. 
لقد أراد السيد نصر الله أيضاً أن يذكر العالم بأن المقاومة إنما انطلقت في العام 1982 من باب الشعور بالغيرة والعزة والكرامة، للحفاظ علي الشرف والعرض والأرض وهو ما تحاول محكمة الحريري استباحته اليوم، وإذا ما تمادت في محاولاتها هذه فيجب عليها وعلي المتعاونين معها أن يتوقعوا ولادة مقاومة شعبية جديدة من نوع جديد تواجه هذه المحاولات وتمنعها وتنتصر عليها حتماً لأن شرف اللبنانيين يأبي إلاّ أن يواجه أي نوع من الاستباحات لا سيما التي تتعرض للشرف والعرض. 
لذلك نقول: إن ما بعد 'خطاب العشرين دقيقة' لن يكون كما قبله، فالمحكمة سقطت أقله لبنانياً، فلا شرعية دستورية لها، كما لا مصداقية لها ولا لموظفيها، ولا لقراراتها، ولا مصداقية لكل ما يصدر عنها وحكمها إن وصلت إلي مرحلة الحكم سيكون مرفوضاً. 





منبع : ایرنا | بازدید از پست : 81
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
Ahmadinejad Puts Iran's Foreign Currency Reserves at above $100 bln
امتیاز به پست : Ahmadinejad-Puts-Iran's-Foreign-Currency-Reserves-at-above-$100-bln Ahmadinejad-Puts-Iran's-Foreign-Currency-Reserves-at-above-$100-bln Ahmadinejad-Puts-Iran's-Foreign-Currency-Reserves-at-above-$100-bln Ahmadinejad-Puts-Iran's-Foreign-Currency-Reserves-at-above-$100-bln Ahmadinejad-Puts-Iran's-Foreign-Currency-Reserves-at-above-$100-bln نتیجه : 244 امتیاز توسط : 88 نفر

Ahmadinejad Puts Iran's Foreign Currency Reserves at above $100 bln

TEHRAN (FNA)- Iranian President Mahmoud Ahmadinejad here on Saturday hailed the country's rich foreign currency reserves, and called on Iran's banking system to appreciate this opportunity and use the capacity created by Iran's large foreign currency reserves which, he said, definitely stand at over $100.



"Foreigners have stated that we have $100 bln of foreign currency reserves, but the figure is definitely higher than what they have announced," Ahmadinejad said addressing a conference of Iran's banking system here in Tehran on Saturday. 

"And it would much beneficial to the country if this capacity (the country's rich foreign currency reserves) is activated and used by the country's banks," Ahmadinejad stated. 

The Iranian president then called on the Governor of the Central Bank of Iran (CBI) Mahmoud Bahmani, the country's minister of economy and finance as well as mangers of the Iranian banks to draw a new plan with a global view for the country's banking system that respects all Islamic religious values while meeting the international requirements. 

The International Monetary Fund (IMF) announced in its October report that Iran's foreign currency reserves are about $100 billion. The announcement came as there was no official estimation in this regard. 

Earlier this month, Bahmani announced that the country's gold reserves have reached an unexpected high level which is sufficient for Iran's domestic needs for the next 10 years.

"Iran's gold reserves have hit unprecedented levels and the country has supplied its domestic gold market for the next ten years," Bahmani said at the time. 

"Regardless of the recession gripping most of the world in 2008 and 2009, Iran's exports rose 10 percent, reaching 18.3 billion dollars," he added. 





منبع : خبرگزاری فارس | بازدید از پست : 24
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
حاشيه ديدار رهبر انقلاب با خانواده شهيد عقلايی
امتیاز به پست : حاشيه-ديدار-رهبر-انقلاب-با-خانواده-شهيد-عقلايی حاشيه-ديدار-رهبر-انقلاب-با-خانواده-شهيد-عقلايی حاشيه-ديدار-رهبر-انقلاب-با-خانواده-شهيد-عقلايی حاشيه-ديدار-رهبر-انقلاب-با-خانواده-شهيد-عقلايی حاشيه-ديدار-رهبر-انقلاب-با-خانواده-شهيد-عقلايی نتیجه : 172 امتیاز توسط : 59 نفر

قبل از سفر رفقای خامنه‌ای‌دات‌آی‌آر گفته بودند برنامه 9 روزه است. یعنی باید چهارشنبه تمام می‌شد. ما هم قرار بود برگردیم؛ همان چهارشنبه ‌شب. اما خبر آمد خبری در راه است. این شد كه ماندیم و هرچند نگفتند ولی حدس زدیم برنامه دیدار با خانواده شهداست، شب جمعه چه برنامه دیگری می‌تواند باشد؟
 
دوباره دو تیم شدیم و دوباره من در تیم دوم و رفتیم خانه شهید دوم. در راه فهمیدم قرار است رهبر خانه سه شهید برود و این یعنی باز هم من شانس نیاورده‌ام!

بدون دردسر خانه را پیدا كردیم، زنگ زدیم و وارد شدیم. پیرمردی بود كه دستش را آتل بسته بودند و پیرزنی كه پدر و مادر شهید محمدتقی عقلایی بودند و پسر جوانی كه برادر كوچك شهید بود؛ خانه خلوت بود.

یكی از محافظ‌ها به مادر شهید گفت: مادرجان ببخشید ما صبح كه آمدیم، گفتیم قائم‌مقام بنیاد شهید هستیم و آقای زریبافان می‌خواهد بیاید و قرار است برنامه تلویزیونی بسازیم ولی واقعیت این است كه الآن آقای خامنه‌ای دارد می‌آید اینجا.

مادر گفت: قدمشان روی چشم. كمی مكث كرد و بعد گفت: كی؟ آقای خامنه‌ای؟ راست می‌‌گی؟ خدا به حق امام حسین عمرش را زیاد كنه. من كجا آقای خامنه‌ای كجا؟ تو رو خدا راست می‌گید؟
http://farsi.khamenei.ir/ndata/news/10489/A/13890806_0310489.jpg
بعد دست‌هایش را بالا گرفت و گفت: ای خدا می‌دونی كی داره می‌یاد خونه ما؟

مثل خانواده شهید یزدی (كه هفته پیش رفتیم خانه‌شان) تازه افتادند به تكاپو. پیرمرد را بلند كردند تا برود شلوارش را عوض كند. اصغر (برادر كوچك شهید كه هم‌سن خودم بود) مسلط‌تر بود و حرف محافظ‌ها را گوش می‌كرد.

یكی از محافظ‌ها به مادر شهید گفت با پسرش دوست بوده. سال سوم راهنمایی هم‌كلاسی بوده‌اند و هر دو در بیت آیت‌الله مشكینی محافظ بوده‌اند. آخر سر هم گفت: مشكل و مسأله‌ای دارید به آقا بگویید.

مادر شهید گفت: یعنی ما هم غصه ایشون را زیاد كنیم؟ فقط عمرش زیاد بشه، سلامت باشه ما هیچ چیز نمی‌خواهیم.

مادر شهيد از محافظ خواست زنگی به همسر شهيد بزند تا حتما بيايد. همسر شهيد البته با برادر شهيد ازدواج كرده بود و باز هم عروس همين خانه بود. مادر گلايه داشت كه چرا نگفته‌اند رهبر می‌‌‌‌‌‌آيد. البته خودش زود جواب داد كه البته كار درستی می‌كنيد. محافظ هم توضيح داد اين توصيه خود رهبر است كه نگوييم چون اگر خانواده‌های شهدا بفهمند رهبر دارد می‌آيد، خودشان را به زحمت می‌اندازند.

مادر داشت توضيح می‌داد كه محمدتقی، پسر شهيدش، با آقای سازگار (مداح معروف) هم‌پاچه هستند. ما با تعجب به هم نگاه كرديم كه هم‌پاچه يعنی چه. يكی از دوستان توضيح داد كه قمی‌ها به باجناق می‌گويند هم‌پاچه!

از بی‌سيم كدی را به رمز گفتند و معلوم شد رهبر نزديك است. برادر شهيد رفت داخل حياط و مادر شهيد پشت سر او. پدر را هم كه پادرد داشت نشاندند و گفتند لازم نيست از جايش تكان بخورد. رهبر كه از در حياط وارد شد، برادر شهيد به گريه افتاد. مادر هم همين‌طور. برگشتم و ديدم پيرمرد هم (كه هنوز رهبر در زاويه ديدش نبود) گريه می‌كند. برادر شهيد رفت به استقبال و رهبر بغلش كرد. مادر شهيد هم جلو رفت و گفت: سلام آقاجان. خوش آمدی كه خوشم آمد از آمدنت/ هزار تا جان شيرين فدای هر كدام از قدم‌هات.
http://farsi.khamenei.ir/ndata/news/10489/A/13890806_0410489.jpg
رهبر سلام كرد و وارد شد. پيرمرد از جايش بلند شد. رهبر با او ديده بوسی كرد. مادر شهيد يك‌سره قربان‌صدقه می‌رفت: جان من وبچه‌هام فدای يك تار موی شما.

رهبر گفت: خدا نكند. خدا شما را حفظ كند. پيرمرد خيلی آرام نشسته بود و گريه می‌كرد. حال خوبی داشت. تازه توانستم به خودم بيايم و اطرافم را از نظر بگذرانم. استاندارد و رييس بنياد شهيد هم آمده بودند. رهبر برای عوض كردن حال جلسه گفت: خوب از شهيدتان بگوييد؟ كجا شهيد شد؟ كی به دنيا آمد.

مادر محمدتقی چند دقيقه‌ای درباره پسرش صحبت كرد: سال 42 به دنيا آمد؛ شب تولد امام زمان. شب عيد قربان هم شهيد شد. آقا لباس پاسداری كه می‌پوشيد من خيلی خوشم می‌آمد. خودش هم می‌گفت مادر دعا كن در اين لباس بمانم، در اين لباس شهيد شوم با همين لباس هم خاكم كنند. همين هم شد، توی جزيره مجنون. دو سه روز قبل از شهادتش زنگ زدم گفتم محمد بچه‌ات بهانه می‌گيره يك سر بيا خونه و بعد برو. گفت خجالت می‌كشم وقتی بچه‌های گردان اينجا هستند من بيام مرخصی. دو سه روز ديگه خودمان می‌آييم. اگر هم نياييم می‌آورندمان. همين هم شد. دو سه روز بعد آوردن‌شان با همان دوستان الآن 7-8 نفری كنار هم رديفی دفن هستند توی گلزار شهدا.

رهبر گفت: خدا شهيد شما را با پيامبر محشور كند. خدا از شما هم راضی باشد. اين روحيه پدر و مادرهای شهدا حكم روح را دارد در جسم. اگر نداشتند اين روحيه را، اگر جزع و فزع می‌كردند، حركت شهادت‌طلبی كند می‌شد.

پدر شهيد آرام نشسته بود و گوش می‌داد. مادر گفت: وصيت خودش بود حاج آقا. گفته بود گريه نكنيد. البته ما هرچی داريم از شما، از آقا خمينی داريم. ما وظيفه‌مان را، انجام داديم. من اگر چهار تا پسرم هم می‌رفتند شهيد می‌شدند وظيفه‌ام بود.
http://farsi.khamenei.ir/ndata/news/10489/A/13890806_0510489.jpg
رهبر با لحن خودمانی‌تری گفت: كار بزرگ را شما انجام دادید... يك روزی می‌رسه خانم كه روز قيامته. آن روز همه دلهره دارند. در حديث هست كه حتی انبيا هم استغاثه می‌كنند به درگاه الهی. آن روز اين فرزند شهيد به دادتان می‌رسد. آن روز اين صبر شما مثل فرشته‌ای دستتان را می‌گيرد.

رهبر از بچه‌های شهيد پرسيد. مادر گفت در راه هستند و توضيح داد كه همسر شهيد با برادر شهيد ازدواج كرده. رهبر لبخند زد و گفت: چه كار خوبی كرديد. بعد از برادر كوچك شهيد پرسيد چه كار می‌كند. اصغر گفت در نطنز كار می‌كند. رهبر خوشحال شد و گفت آفرين!

مادر شهيد بغض كرد و گفت: حاج آقا من دعا می‌كردم شما را در خواب ببينم. رهبر خنديد و گفت: ای كاش برای چيز بهتر دعا می‌كرديد. بعد رو كرد به پدر محمدتقی و گفت: شما چه كار می‌كنيد؟ دستتان چی شده؟ پيرمرد گفت كار نمی‌كند و ديگر بازنشسته شده. دستش هم به خاطر افتادن با موتور شكسته. رهبر پرسيد: چند سالتان است شما. اصغر جواب داد متولد 1318 هستند. رهبر لبخند زد و گفت: هم‌سن هستيم ولی اگر باز هم برويم توی خيابان همه خواهند گفت شما 10 سال جوان‌تر هستيد... البته برای موتورسواری سن من و شما يك كم زياد است.

به پيرمرد نمی‌آمد كه اينقدر بابصيرت باشد. جواب داد: نه حاج آقا صدمه شما از ما بيشتر است، شما هم صدمه جسمی داريد هم صدمه روحی. شما غصه زياد می‌خوريد.

همين موقع همسر شهيد رسيد. بهت زده بود. باورش نمی‌شد كه رهبر را ديده است. پشت سر او دختر شهيد هم آمد. دختری كه حالا در يكی از روستاهای نزديك قم معلم بود. هر دو ناباورانه آمدند و جلوی رهبر نشستند و به گريه افتادند. همسر شهيد می گفت: قربانتان بروم... قدم روی چشم ما گذاشتيد. گريه شوق‌شان دل سنگ ما را هم تكان داد. دختر عبای رهبر را بوسيد. اصغر به اشاره محافظ‌ها از همسر و دختر شهيد خواست بنشينند روی مبل كناری.

صدای زنگ درآمد و يك دقيقه بعد اكبر (برادر ديگر شهيد هم وارد شد) هول شده بود. جلو رفت و رهبر را بوسيد و نشست كنارش. رهبر برای اينكه فرصتی باشد تا حال همسر شهيد جا بيايد. از اكبر سؤال كرد شما چه می‌كنيد آقاجان؟ اكبر جواب داد: من همسايه شما هستم. توی انسيتو پاستور كار می‌كنم.
http://farsi.khamenei.ir/ndata/news/10489/A/13890806_0910489.jpg
رهبر پرسيد: چه خبر؟ اوضاع آنجا خوب هست؟ اكبر با رندی جواب داد خوبه فقط ما مشكل بودجه داريم. رهبر با خنده جواب داد: كی نداره؟ برای رهبر و بقيه چای آوردند. سينی را يكی از محافظ‌ها گرداند. همسر شهيد گفت: باورم نمی‌شه آقا كه شما را ديدم.

رهبر چايش را برداشت و آرام‌آرام نوشيد.

دختر شهيد پر چادرش را آورده جلوی آورده بود جلوی دهان و بينی‌اش و از چشم‌های سرخ‌شده‌اش هنوز اشك قِل‌قِل می‌خورد و بيرون می‌آمد.

رهبر از دختر شهيد پرسيد: شما معلم هستيد درسته؟ دختر گفت بله و اسم روستايی كه درس می‌داد را گفت. گفت پايه دوم و سوم درس می‌دهد و ادامه داد: آقا بچه‌های كلاس من آرزو دارند شما را ببينند.

رهبر لبخند زد و جواب داد: سلام من را به‌شان برسانيد. بعد پرسيد: پسر شهيد كجا هستند؟ همسر شهيد جواب داد: پسرم مهندسه تهران كار و زندگی می‌كنه. الآن توی راهه داره مياد. رهبر گفت: من اين چای را می‌خورم و كم‌كم مرخص می‌شوم. آدرس خانه شهيد سوم را می‌گويم بدهند، اگر فرزند شهيد آمد و دوست داشت من را ببيند، بيايد آنجا.

همسر شهيد گفت: آقا من يك آرزو در زندگی‌ام دارم كه پسرم لباس خادمی امام رضا بپوشه.

رهبر جرعه‌ای از چای را نوشيد و گفت: من پيگير می‌شوم، هر كار بتوانم می‌كنم.

برادرزاده شهيد (كه برادر ناتنی بچه‌های شهيد هم بود) به رهبر گفت: حاج آقا من هم عمره دانشجويی ثبت نام كردم ولی اسمم درنيامد. ميشه شما يه چيزی بهشون بگيد من بتونم برم.

رهبر گفت: خوب اسم شما درنيامده من چه كار كنم. شما دعا كنيد بلكه سال بعد بشه. گفتن من خوب نيست، دستوری می‌شود. هم لطف خودش را از دست می‌دهد هم در مجموعه‌ای كه دست‌اندركار است تأثير بد می‌گذارد. برويد حرم جمكران دعا كنيد از حضرت بخواهيد... نه اين موضوع را، همه چيز را. مطمئن باشيد جواب می‌دهند. همسر شهيد كه هنوز از بهت بيرون نيامده بود گفت: به بركت دعای شما و اين جمهوری اسلامی همه بچه‌های ما درس‌خوانده شدند و تحصيلات عاليه دارند.
http://farsi.khamenei.ir/ndata/news/10489/A/13890806_0710489.jpg
رهبر قرآنی خواستند و صفحه اولش را باز كردند تا چيزی بنويسند. ياد ازدواج مجدد همسرشهيد افتادند و گفتند: من با ازدواج همسران شهدا موافقم ولی يكی از بهترين كارهايی كه من را از ته دل خوشحال می‌كند، ازدواج برادر شهيد با همسر شهيد است.

مادر شهيد نكته‌ای راجع به تعمير خانه به رهبر گفتند. رهبر به رييس بنياد شهيد رو كردند و گفتند: شما راهی داريد؟ زريبافان تأييد كرد. رهبر با لبخند گفت: همه‌كاره ايشان هستند كه می‌گويند حل می‌شود. زريبافان از خجالت قرمز شد و آرام گفت: ما چه كاره‌ايم تا شما هستيد.

رهبر قرآن را به پدر شهيد داد و هديه‌ای به مادر شهيد. بعد مثل هميشه آخر كار گفت: خوب خانم مرخص فرموديد؟ و بلند شد.

رهبر تا برسد به در حياط دو تا چفيه و سه تا انگشتر داده بود به خانواده شهيد. پشت سر رهبر از خانه بيرون آمدم وديدم زن‌های همسايه ايستاده‌اند توی كوچه و گريه می‌كنند. رهبر دستی برايشان تكان داد و نشست توی ماشين و رفت.

ما برگشتيم داخل خانه. يكی دو تا از محافظ‌ها منتظر پسر شهيد شدند تا اگر رسيد ببرندش پيش رهبر. من هم با محافظ‌ها ماندم. مادر شهيد داشت با آب و تاب سير تا پياز ماجرا را برای عروسش تعريف می‌كرد. برای ما هم ميوه و چای آوردند. همسر شهيد گفت: دخترم هر روز 8:30 تازه تعطيل می‌شد. امروز شانس آورد كه زودتر آمد. يكی از محافظ‌ها هم گفت: اين اولين بار بود كه رهبر جايی رفته و گفته كسی كه نيست را بياورند تا ببيند. كمی مكث كرد و ادامه داد: البته اگر تا وقتی كه آقا خانه شهيد سوم هست برسد. حالا كجا هست نزديك يا دور؟
http://farsi.khamenei.ir/ndata/news/10489/A/13890806_0210489.jpg
همسر شهيد به پسرش زنگ زد. هنوز توی اتوبان قم بود. مادر شهيد تعارف كرد ميوه بخوريم. گفت: بخوريد بگذاريد شهيدم خوشحال شود. پدر شهيد گفت: ما توی اين خانه هر سال روضه می‌گيريم. حاج خانم می‌گه بفروش بريم جای ديگه كه ساختمانش اينقدر قديمی نباشه. اما اونوقت روضه را چه كار كنم؟ يكی از محافظ‌ها گفت: حاجی إن‌شاءالله حل شد ديگه. رييس بنياد شهيد قول داد اينجا را تعمير كنه.

ميوه و چای را خورديم. محافظ گفت بعيد می‌دانم پسرتان برسد. بعد با بی‌سيم پرسيد برنامه خانه شهيد سوم تمام شده يا نه. از پشت بی‌سيم جواب آمد كه تمام شده و رهبر در حال برگشتن هستند. ديگر اميدی نبود. همه بلندشديم. خداحافظی كرديم و راه افتاديم. توی راه به فكر پسر شهيد (مجيد) بودم كه حتما حسابی داشت توی اتوبان گاز می‌داد تا برسد به ديدار رهبر. راستی وقتی برسد و بفهمد ديدن رهبر را از دست داده چه حالی می‌شود؟





منبع : رجا نیوز | بازدید از پست : 58
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
گزارشی از بازدید سرزده رهبر از خانواده شهیدان فاطمی
امتیاز به پست : گزارشی-از-بازدید-سرزده-رهبر-از-خانواده-شهیدان-فاطمی گزارشی-از-بازدید-سرزده-رهبر-از-خانواده-شهیدان-فاطمی گزارشی-از-بازدید-سرزده-رهبر-از-خانواده-شهیدان-فاطمی گزارشی-از-بازدید-سرزده-رهبر-از-خانواده-شهیدان-فاطمی گزارشی-از-بازدید-سرزده-رهبر-از-خانواده-شهیدان-فاطمی نتیجه : 245 امتیاز توسط : 82 نفر

«آقا. آقا. آقا قربونت برم. آقا فدات بشم. توروخدا من رو دور آقا بگردون. توروخدا من رو دور آقا بگردونین.» این‌ها را مادر شهیدی می‌گوید كه حالا دیگر روی ویلچر نشسته. رهبر را كه می‌بیند، به نفس‌نفس می‌افتد. اصرار كرده بود كه بیاورندش جلوی در، برای استقبال. لابد می‌خواست اولین نفری باشد كه رهبر را می‌بیند. از نیم‌ساعت پیش كه شنیده میهمانش فرد دیگری است، آرام روی ویلچر نشسته و آرام شكر خدا كرده و آرام اشك ریخته. اما حالا دیگر خبری از آن مادر آرام نیست. هنوز روی ویلچر نشسته و هنوز شكر خدا می‌كند و هنوز اشك می‌ریزد، اما این‌بار با صدای بلند. درست مثل دخترش. درست مثل نوه‌اش.

وقتی وارد خانه شدیم، تازه به اعضای خانواده گفته بودند كه قرار است رهبر بیاید به منزل‌شان. قبلا به مادر شهید گفته بودند قرار است استاندار و رئیس بنیاد شهید بیایند و حرف‌هایشان را بشنوند و شاید هم فردا ببرندش به دیدار رهبر. رازداری كرده‌بود و به كسی نگفته بود كه قرار است فردا كجا برود. امروز هم منتظر استاندار بود و رئیس بنیاد شهید، كه گفتند قرار است رهبر بیاید به خانه‌شان. برای همین، مدام می‌پرسد: «خواب می‌بینم؟»

دو پسرش شهید شده‌اند؛ یكی قبل از انقلاب در سال 54 و دیگری پس از انقلاب در سال 64. در و دیوار خانه هم پر است از عكس دو فرزند. به‌خصوص عكس سیدحمیدرضا كه در زندان كمیته مشترك ضد خرابكاری (موزه عبرت فعلی) بوده و حتی عكس شكنجه‌اش هم قاب‌شده روی دیوار است. بعد از همین شكنجه‌ها بوده كه اعدامش كرده‌اند. گوشه دیگر، عكس دو فرزند و پدرشان را بزرگ روی بنر چاپ و به دیوار نصب كرده‌اند. پدری كه پس از شنیدن خبر شهادت سیدفرید در عملیات والفجر8، فوت كرده و مادر را با یك دختر تنها گذاشته است.

بقیه اعضای خانواده در تكاپوی آماده‌كردن منزل هستند. مرد فعلی خانه، «محمدآقا»ی جوان است كه نوه دختریِ مادر شهید است و همه او را صدا می‌زنند برای كارها، حتی محافظ‌ها. خواهرش هم با دو پسرش به همراه مادرشان، امروز از تهران آمده‌اند. شوهر خواهرش كربلاست. برای همین، خواهرش یواشكی زنگ زده به برادر شوهرش و ماجرای آمدن رهبر را گفته تا او به‌عنوان یك روحانی به منزل مادربزرگ بیاید. و به همین راحتی داد همه محافظ‌ها را درآورده.

مادر به محافظ‌ها گلایه می‌كند كه چرا زودتر ماجرا را نگفته‌اند. اما خودش حرفش را كامل می‌كند: «اگه گفته بودین، تا حالا سكته كرده بودم.» از دخترش تسبیحی می‌گیرد كه هدیه كند به رهبر. بعد هم كلی نامه را می‌دهد به دخترش. نامه دوست و آشناست كه داده‌اند به او برای پیگیری. ظاهرا از آن‌هایی‌ست كه حلال مشكلات محله است.

صندلی رهبر را می‌گذارند كنار عكس شهدا، ویلچر او را هم كنار صندلی رهبر. اما او می‌خواهد به استقبال رهبر برود. برای همین با همان ویلچر می‌برندش جلوی در. برای این كه نفسش نگیرد، به نوه‌ها می‌گوید اسپری‌اش را بیاورند. دو مدل اسپری مختلف توی گلویش می‌زند. نوه‌ها چادرش را مرتب می‌كنند. و حالا او آماده استقبال از رهبرش است.

رهبر را كه می‌بیند، اسپری‌ها خاصیت‌شان را از دست می‌دهند. به نفس‌نفس می‌افتد. یك نفس «آقا آقا» می‌گوید و قربان‌صدقه «آقا» می‌رود. به همه التماس می‌كند «تو رو خدا من رو دور آقا بگردونین» اما رهبر تشكر می‌كند و منع. او هم عبای رهبر را می‌گیرد و چندین‌بار می‌بوسد.

رهبر می‌نشیند و حال و احوالی با مادر می‌كند و پرس‌وجویی از نحوه شهادت فرزندان و دعایی به حال فرزندان: «خدا ان‌شاءالله كه هردوشون رو با پیغمبر محشور كنه. با اولیائش محشور كنه. خدا به شما اجر بده. چشم شما رو روشن كنه»

مادر از بیمار بودنش می‌گوید و بستری بودنش در بیمارستان. این كه خواب دیده رهبر به پرستارها گفته مواظب او باشند. و این كه رهبر به او گفته خودم به عیادت شما می‌آیم. «حالا خوابم تعبیر شد»

آیت‌الله سعیدی (امام‌جمعه قم) ادامه می‌دهد: «ایشون یه بار حالشون خیلی بد می‌شه. یه خانم دكتری خواب می‌بینه كه بهش می‌گن به خانم فاطمی سر بزن. تو خیابون فاطمی. خانم دكتر اعتنا نمی‌كنه. اما 3 بار این خواب رو می‌بینه. شوهرش می گه لابد خبری هست. میان خونه ایشون. در هم باز بوده. خانم دكتر میاد بالاسرشون و ایشون رو نجات می‌ده.»

پیرزنی كه كنار نشسته، توجهم را جلب می‌كند. كارگر و پرستار مادر شهید است. دعوتش می‌كنم كه جلوتر بیاید. یك نفر معرفی‌اش می‌كند و رهبر دعایش می‌كند.

آیت‌الله سعیدی خاطره دیگری تعریف می‌كند: «بعد از شهادت آسیدحمید، آدرس قبر را به مادر نمی‌دن. فقط می‌گن تو بهشت‌زهرا دفن شده. اما ایشون می‌ره و قبری رو به‌عنوان قبر پسرش مشخص می‌كنه. بعد از انقلاب كه اسناد منتشر می‌شه، می‌بینن كه ایشون قبر پسرشون رو درست تشخیص داده بوده.»

مادر كه كمی سرحال‌تر شده، از فعالیت‌هایش می‌گوید. از این كه خانه‌اش 8سال پایگاه بوده. پشت جبهه كار كرده. دو مدرسه ساخته و اهدا كرده. تازه می‌فهمم فلسفه پلاك و زنجیر آویزان از گلدان را كه رویش نوشته شده بود: «یادمان مردان آفتاب/ آموزشگاه راهنمایی شهیدین فاطمی»

از رهبر می‌خواهد تا دعایش كند و رهبر جواب می‌دهد: «من دعا می‌كنم شما رو. شما هم ما رو دعا كنید. دعای شماها ان‌شاءالله پیش خداوند مسموعه. مقبوله»

مادر شعری را كه برای رهبر گفته، می‌خواند و بعد هم خاطراتش را از زمان انقلاب تعریف می‌كند. از زمانی كه پسرش را زندانی كرده بودند و او و همسرش را بارها به ساواك برده‌اند. از این كه به‌عنوان مادر، حس كرده سینه حمیدرضایش موقع بازداشت، بین در و دیوار شكسته. خاطره‌هایش زنده شده. كه بدون این كه وقت ملاقات بدهند، از او خواسته‌اند پسرش را مجبور به همكاری كند تا چرخ مملكت بچرخد، وگرنه اعدامش می‌كنند. و او جواب می‌دهد كه حمیدرضا قبول نمی‌كند و اگر هم این كار را بكند، من نمی‌بخشمش. معلوم است كه شهادت حمیدرضا برایش خیلی دردآور بوده. به خصوص زخم‌زبان‌ها و اذیت‌هایی كه در كنار آن كشیده: «ساواك بهم گفت با اعدام پسرت، تا آخر عمر مهر ننگ زدیم رو پیشونیت» پیرزن از خاطراتش می‌گوید و رهبر اشك چشمش را با انگشت پاك می‌كند و می‌گوید:

«همین شهادت‌ها پایه‌های جمهوری اسلامی را مستحكم كرد. اگر این جوان‌های امثال فرزند شهید شما، در دوران اختناق جهاد نمی‌كردند، مبارزه نمی‌كردند، صبر نمی‌كردند، این اتفاق نمی‌افتاد. اگر مادرها، پدرها بی‌صبری می‌كردند، ناراحتی اظهار می‌كردند، دیگران را پشیمان می‌كردند از رفتن این راه، این اتفاق نمی‌افتاد. این اتفاقی كه افتاد، كه دنیا را تكان داد، تشكیل جمهوری اسلامی، این به بركت همین مجاهدت‌های فرزندان شماست.»

دو نفر وارد خانه می‌شوند. صاحب مغازه مجاور خانه است و رفیقش كه در مغازه بوده. خودش برادر شهید است و همراهش جانباز. رهبر را دیده‌اند كه وارد خانه شده و اصرار كرده‌اند كه وارد شوند. به اشاره مسوول بیت، دعوت‌شان می‌كنم كه جلو بنشینند.

رهبر قرآن و سكه‌ای را به یادگاری به مادر می‌دهد. مادر هم كفن‌اش را می دهد تا رهبر امضا كند. بعد هم تسبیحی را كه آماده كرده‌بود، به رهبر هدیه می‌كند. انگشترش را هم درمی‌آورد كه هدیه كند: «نگین این انگشتر از اولین سنگ قبر امام حسینه. مال پونصد سال پیش.» رهبر می‌گوید انگشتر دست شما باشد بهتر است. همین تسبیح بس است و من با آن ذكر خواهم گفت. با همان تسبیح سبزرنگ قدیمی رنگ و رو رفته.
  
رهبر اجازه مرخصی می‌خواهد كه خواهر شهید جلو می‌رود و چفیه رهبر را برای پسر دیگرش كه اینجا نیست می‌گیرد. رهبر كه بلند می‌شود، قربان‌صدقه رفتن مادر دوباره شروع می‌شود. اما این بار به زبان تركی: «آقا! اوزوم. بالام. سَنَه قربان» و رهبر هم به همان تركی جواب می‌دهد. بقیه حرف‌ها هم به همین زبان تركی رد و بدل می‌شود و رهبر خداحافظی می‌كند. این بار كارگر خانه است كه جلو می‌آید و عبای رهبر را می‌بوسد و زارزار اشك می‌ریزد. خیالش راحت است كه می‌تواند به تركی با رهبرش صحبت كند. رهبر كه بیرون می‌رود، صدای خانمی از توی كوچه می‌آید كه چفیه رهبر را می‌خواهد.

فوری برمی‌گردم توی خانه و می‌روم سراغ كفن تا رویش را بخوانم: «اللهم انا لانعلم منها الا خیرا. و انت اعلم بها منا. سید علی خامنه‌ای»





منبع : رجا نیوز | بازدید از پست : 55
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
اعجاز ولايي در سفر رهبر معظم انقلاب به قم
امتیاز به پست : اعجاز-ولايي-در-سفر-رهبر-معظم-انقلاب-به-قم اعجاز-ولايي-در-سفر-رهبر-معظم-انقلاب-به-قم اعجاز-ولايي-در-سفر-رهبر-معظم-انقلاب-به-قم اعجاز-ولايي-در-سفر-رهبر-معظم-انقلاب-به-قم اعجاز-ولايي-در-سفر-رهبر-معظم-انقلاب-به-قم نتیجه : 223 امتیاز توسط : 69 نفر

دشمنان سعي بسياري كرده بودند تا علما و مراجع را كه مقبوليت بسياري در ميان مردم ايران دارند از حكومت و رهبري جدا نشان دهند اما اين سفر و رابطه ويژه مراجع عظام تقليد با مقام عظماي ولايت تيري فولادي بر قلب دروغ پردازي هاي دشمنان بود.
سفر بي مظير مقام معظم رهبري كه كانون توجهات رسانه هاي داخلي و خارجي شده بود به دليل آنچه كه بايد آن را درخشاني محور ولايت مطلقه فقيه پس از بيش از دو دهه از دوران رهبري حضرت آيت الله خامنه اي خواند نتايج و ثمرات بسيار پربار و بابركتي به همراه داشت. اين سفر بيش از آنچه كه سفر معمولي يك مقام عالي رتبه كشور به يكي از استان ها باشد سفري بود كه در آن مردم به تجديد بيعتي دوباره به خصوص پس از كوران حوادث پس از انتخابات نائل شدند.

به گزارش بولتن: اولين و حساس ترين فراز اين سفر كه نوميدي هر چه بيشتر دشمنان را به ارمغان آورد تجديد بيعت هزاران نفر از بزرگان، علما و نخبگان علمي و ديني در حوزه علميه قم با رهبر معظم انقلاب بود. دشمنان سعي بسياري كرده بودند تا علما و مراجع را كه مقبوليت بسياري در ميان مردم ايران دارند از حكومت و رهبري جدا نشان دهند اما اين سفر و رابطه ويژه مراجع عظام تقليد با مقام عظماي ولايت تيري فولادي بر قلب دروغ پردازي هاي دشمنان بود.

 در همين زمينه روزنامه الاخبار لبنان در مقاله اي مفصل به بررسي سفر مقام معظم رهبري به شهر مقدس قم پرداخته و اين سفر را موجب تعميق روابط قم تهران دانست. «ايلي شلهوب» نويسنده مقاله يكي از اهداف ديدار مقام معظم رهبري از قم را بستن تمام دريچه ها و روزنه هاي اميد دشمنان براي ايجاد فتنه و اختلاف در كشور دانست كه مخالفان داخلي ايران روي آن حساب باز كرده بودند. وي نوشت: آيت الله خامنه اي در اين ديدار بار ديگر قم را در ميان تصميم سازان تهران قرار داد، اين در حالي است كه برخي رسانه ها و جريان ها سعي داشتند تا اينگونه وانمود كنند كه بويژه بعد از اتفاقات سال 88 در اين كشور اختلافاتي ميان حوزه علميه قم و نظام حاكم در تهران به وجود آمده است.

استقبال ويژه علماي مختلف حوزه علميه به خوبي نشان داد كه نظام جمهوري اسلامي در حلقه «جريان بنيانگذار»- يعني روحانيت و حوزه- تا چه اندازه محل توجه و علاقه است. اگر اندكي انصاف داشته باشيم تصديق مي كنيم كه روحانيت بيش از سال هاي 41، 42، 56 و 57 از انقلاب اسلامي حمايت مي كند.

دومين نكته عام بودن سفر حضرت آيت الله العظمي خامنه اي به قم بود. معظم له در اين سفر تاكيد موكدي داشتند بر اينكه با گروه و دسته خاصي ديدار نكرده و تمامي ملاقات ها عمومي باشد اما ديدار با عوامل موسسه پژوهشي امام خميني وابسته به آيت الله مصباح يزدي تنها استثناي اين سفر بود. دشمنان از ساليان حاكميت دوم خرداد تلاش هاي بسياري به خرج دادند تا با توجه به مواضع ولايي و انقلابي آيت الله مصباح يزدي ايشان را مورد هجمه قرار داده و دفاعيه هاي ايشان از ولايت و انقلاب را خنثي كنند اما جايگاه پرافتخار علمي ايشان و نيز توجه مقامات عالي نظام به شخصيت ايشان همواره اين توطئه ها را بي اثر كرده است. اين را نيز بايد در نظر داشت كه اين ديدار پيام هاي بسياري در توجه ويژه معظم له به نظام آموزشي و سبك تربيتي موسسه امام خميني(ره) دارد. 

سومين محور مهم در اين سفر تبيين ابعاد بصيرت جمعي و عمومي و پايان دادن به ذره غبارهاي باقي مانده از فتنه هاي سال گذشته بود. افشاگري ها و موشكافي هاي مقام معظم رهبري در اين سفر هيچ نكته مبهمي در افشاي چهره واقعي فتنه و حاميان خارجي آنان نگذاشت . در همين زمينه پايگاه خبري الجزيره در قالب مصاحبه با افراد مختلف در داخل ايران اهداف و نتايج اين نشست را مورد بررسي قرار داد. الجزيره بعد از اين مصاحبه ها نتيجه گرفت كه يكي از اهداف اين سفر پايان دادن به فعاليت هاي جريان فتنه داخلي در كشور و محاكمه سران فتنه بود.

چهارمين نكته ايجاد و تسريع در سير تحول حوزه هاي علميه شيعه بود. حوزه هاي علميه در كنار نوآوري هايي كه داشته اند اما همچنان از نوآوري و پيشرفت همسان و همگام با علوم و فنون روز و نيازهاي بشري عقب مانده اند و اين نكته اي بود كه در فرمايشات حضرت آقا به شدت بر آن تكيه شده و منشور تحول در حوزه هاي علميه به همين منظور از جانب معظم له مورد اشاره قرار گرفت.





منبع : بولتن نیوز | بازدید از پست : 58
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
مردم شــناسي قــم
امتیاز به پست : مردم-شــناسي-قــم مردم-شــناسي-قــم مردم-شــناسي-قــم مردم-شــناسي-قــم مردم-شــناسي-قــم نتیجه : 193 امتیاز توسط : 61 نفر

شهر مقدس قم ازجمله شهر‎هایی است که از گذشته تا آینده در اخبار غیبی ائمه از آن یاد شده؛ و تنها شهری است که حرم اهل‎البیت خوانده شده است. ‎جایی‎که اهل‎البیت کاملا محرم می‎شوند و انسان‎‎ها نیز محرم آنان هستند.
شهر مقدس قم ازجمله شهر‎هایی است که از گذشته تا آینده در اخبار غیبی ائمه از آن یاد شده؛ و تنها شهری است که حرم اهل‎البیت خوانده شده است. ‎جایی‎که اهل‎البیت کاملا محرم می‎شوند و انسان‎‎ها نیز محرم آنان هستند. یعنی به‎اندازه‎ای نزدیک می‎شوند که محرم در می‎آیند. یکی از جا‎هایی که انسان‎‎ها کاملا به خدا نزدیک می‎شوند، خانه خداست. پس کسانی هم که وارد قم می‎شوند، وارد نزدیک‎ترین شهر به اهل‎البیت شده‎اند. در واقع اهل‎البیت برای همیشه در قم تجلی خواهند کرد. خصوصا در آخرالزمان که وجب به وجب قم با طلا خرید و فروش می‎شود. (یعنی رشد اقتصادی‎اش بسیار بالا می‎رود) رشد پیدا خواهد کرد و به یک شهر بالنده جهانی تبدیل خواهد شد. این نشان می‎دهد که قم در آینده به‎عنوان یک تقدیر الهی رقم زده شده است و ما هم که معتقدیم تقدیر الهی عوض نمی‎شود. قضا به اکثر دعا عوض می‎شود، اما تقدیر عوض نمی‎شود. چون خود خدا آن قدر را رقم می‎زند، همانند مرگ. اگر مرگ در شب قدر با علم الهی در تقدیر کسی رقم خورده باشد، عوض نمی‎شود. اما قضا که با حکم الهی است با اکثر دعا عوض می‎شود. پس تقدیر قم هرگز عوض نخواهد شد. و قم در آینده به‎عنوان حرم اهل‎البیت مرجع شیعه در سراسر جهان خواهد بود. یعنی کل جهان شیعه به قم وصل می‎شوند، بلکه برادران اهل سنت نیز اگر بخواهند با شیعه ارتباط برقرار کنند باید در قم باشد. طبق احادیث، حرکت‎‎های آخرالزمان نیز از قم آغاز خواهد شد. معارف اهل‎بیت از قم به سراسر جهان گسترش یافته و ارجاع از جهان نیز به قم خواهد بود. این است که قم باید خود را برای فرآیند جهانی شدن تشیع آماده کند. حال آیا ساختار شهری قم برای این مسئله کفایت می‎کند؟ 


ساختار شهری قم به‎شدت غیرطبیعی است. خصوصا محله‎‎های قدیمی و سنتی بیشترین مشکلات ساختاری را داشته و اصلا بعد شهری ندارند. بهترین راه برای محله‎‎های تو در تو و گسترده و بی‎ارتباط با خیابان چون محله چهار مردان و محله آذر و اطراف‎شان، شهرسازی جدید است. خصوصا در میدان میر، که - هنوز نتوانسته‎اند شکلی به آن بدهند - خانه و محراب حضرت معصومه (سلام‎ا... علیها) در آن است. اگر درست کار می‎شد - به‎طوری‎که این خانه و محراب در یک خیابان مستقیم به حرم وصل می‎شد - مردم می‎توانستند به‎راحتی و مستقیما از خانه به حرم حضرت مشرف شوند. جالب است که خیابان‎بندی خود حرم نیز فاجعه است و هنوز هیچ فکر اساسی درباره آن نشده است. فقط از حرم تا مسجد جمکران را درست می‎کنند. اما خیابان‎‎هایی که از اطراف به حرم منتهی می‎شوند، به‎شدت دچار مشکلات ترافیکی هستند و بسیاری از آثار قدیمی مرتبط با اهل‎بیت مانند امام‎زاده‎‎ها، هیچ‎کدام محوطه‎سازی و محیط‎پروری ندارد. این است که ساختار محله‎‎های قدیمی مثل محله آذر که امام‎زاده‎‎های بسیاری آن‎جا هستند، متأسفانه در بن‎بست‎‎ها و در بدترین شرایط گیر افتاده‎اند. مسجد جامع قم به‎عنوان یکی از قدیمی‎ترین مساجد با قدمت حدود 800 سال، سال‎هاست که در بن‎بست باقی مانده و تاکنون هیچ‎کاری صورت نگرفته تا این مسجد سابقه‎دار شیعیان در انظار مردم قرار گیرد. اگر قرار است قم از نظر ساختار شهری و شهرسازی یک شهر جهانی شود، هنوز بسیار عقب‎مانده باقی مانده است و حتی قابل مقایسه با یزد هم نیست. خصوصا با این معماری‎‎های عجیب و غریب غربی که مدتی است در آن‎جا باب شده. روبه‎روی حرم در ضلع شرقی پارکینگ که اول خیابان حرم تا مسجد جمکران است، ساختمانی به‎شدت غربی به‎عنوان فروشگاه مرکزی ساخته‎اند که اصلا اسلامی نیست. آیا این قم اسلامی می‎خواهد مرجع شیعه باشد، با این ساختمان‎‎های غربی و غیرکویری و غیر قابل تطبیق با آب و هوای ایران؟ چطور اجازه ساختن چنین ساختمانی روبه‎روی حرم داده شده است؟ در اطراف حرم آپارتمان‎‎های بلند ساخته می‎شود و چند سال بعد دیگر گنبد حضرت معصومه (سلام‎ا... علیها) را نمی‎بینیم. حرم پایین می‎رود و این برخلاف شهرسازی قمی است. اطراف حرم هنوز ساخت‎وساز است و فکر سال‎‎های بعد نیستند. قاعدتا باید تا چهارراه بازار و از آن طرف هم تا مدرسه حجتیه خالی شود؛ اما متأسفانه ساخت و ساز وجود دارد. این‎‎ها باید خالی شود؛ چراکه برای چند سال آینده، با استقبالی که از حرم خواهد شد، محوطه‎سازی حرم مشکل می‎شود. همه این‎‎ها غیر از آن‎چه حوزوی است، باید تخلیه و سنگ فرش و میادین بزرگ تعبیه شود. مانند شهر‎های بزرگی چون رم و واتیکان - و آثار اسلامی چون کتابخانه آیت‎الله مرعشی به زیبایی در وسط قرار گیرد. زیباترین میدان‎‎های بزرگ با مساحت کیلومتری نزدیک حرم حضرت بنا شود که تقریبا برسد به خیابان آذر و از آن‎طرف هم به خیابان حجتیه. به‎گونه‎ای شود که حرم حضرت معصومه (سلام‎ا... علیها) یک فضای بزرگ میدانی شود که افراد از مسافتی دور که به‎سمت حرم در حرکتند، در فردیت و حال معنوی خود فرو رفته تا به حرم برسند. یک‎سری فضای باز برای توریستی که به هتل نمی‎رود، باشد تا از فضای سبز و بهداشت آن استفاده کند. الان متأسفانه در حرم امام رضا (علیه‎السلام) نیز شبیه این اتفاق در حال وقوع است. صحن‎‎های حضرت بسیار بزرگ شدند، اما ساختمان‎‎های بلند بلافاصله از پشت دیوار صحن ساخته شده است. این باعث می‎شود در اطراف حرم فضایی بسیار تنگ و زشتی‎آفرین و فسادبرانگیز ایجاد شود. آن زمان که آستان قدس زمین‎‎های اطراف را می‎خرید، باید میدان‎‎های اطراف را تخلیه می‎کرد و اگر میدان‎‎ها بزرگ می‎شد، چقدر فضا‎های زیبایی به‎وجود می‎آمد؟ با این وضع شهرسازی در قم، فردا قم بدتر از مشهد خواهد شد. بدترین محله‎‎ها در اطراف حرم حضرت معصومه (سلام‎ا... علیها) واقع شده‎اند. به‎دلیل تراکم و عدم امکانات بهداشتی و فضا‎های تنگ و تاریکی که موجب ایجاد مسائل غیراخلاقی نیز می‎شود، هم در قم و هم در مشهد باید منتظر مشکلات فراوان باشیم. این باعث افزایش زشتی شهر و کم شدن زیبایی حرم است. در مشهد اگر چهار خیابان منتهی به حرم را تخلیه و همه را عریض می‎کردند، بسیاری از مشکلات ترافیکی اطراف حرم برطرف می‎شد. اصلا وضع شهر عوض می‎شد. اما امروز با نزدیک شدن ساختمان‎ها به حرم، مجبورند چاره‎ای اساسی برای این معظل بیندیشند. 



اما من می‎گویم قم بدتر است. چون قم هیچ زیرساخت شهری نداشته است و تا چند سال پیش از این مثل دهات بود. اگر حرم تا میدان‎‎های اطراف- مثلا تا چهارمردان و سر 45 متری - گسترش می‎یافت و از آن‎جا به بعد خانه‎‎ها بنا می‎شد، امروز مردم قم به‎ویژه قشر متوسط برای فرار از تراکم، مجبور نمی‎شدند به بیابان‎‎های اطراف فرار کنند. شهرک‎سازی‎‎های اطراف قم به‎نوعی فرار از فرهنگ قمی است. شهرک پردیسان با فاصله چند کیلومتری از حرم با حداقل امکانات فرهنگی و مذهبی نظیر مسجد و حسینیه تا چه اندازه با فضای معنوی قم ارتباط دارد؟ آیا زیرساخت‎‎های این شهرک‎‎های جدید روزی ضد فرهنگ قم نخواهد شد؟ همانند آن‎چه در خیابان سجاد اطراف پارک ملت در وکیل‎آباد مشهد اتفاق افتاده است؟ به‎دلیل توسعه غرب و شمال‎غربی، فرهنگی ضد امام رضا ایجاد شده است. قم نیز از سمت جنوب و جنوب غربی در حال توسعه است. و این آیا آینده قم خواهد بود؟ بدون هیچ فرهنگ و زیرساخت قمی؟ این باعث دامن زدن به فساد و بسیاری مسائل فرهنگی و اجتماعی و سیاسی و امنیتی خواهد شد؛ قم دچار هزاران مشکل خواهد شد چه در اطراف حرم و چه دورتر از آن. آن‎وقت باید خرج‎‎های عظیمی کرد تا وضع حداقل کمی اصلاح شود، نه این‎که ریشه‎کن شود. 



همه این‎‎ها یک شهرسازی بی‎قاعده و غیرعلمی و بدون فکر را نشان می‎دهد که آثارش از هم‎اکنون پدیدار شده است و در بلندمدت بسیار بیشتر خواهد شد. این اوضاع بر حوزه علمیه و وضع جهانی‎ قم نیز تأثیر خواهد گذاشت و این به‎نفع هیچ‎کس نیست

دكتر ابراهيم فياض/ نشريه پنجره





منبع : بولتن نیوز | بازدید از پست : 73
ن :
ت : یکشنبه 09 آبان 1389
نتایج درخواست ها
[-Templates-]
شرکت تعاونی خدمات پیشرو آشیان مهر تنکابن

ارائه کننده خدمات رایانه ای اینترنت سخت افزار و نرم افزار
نشانی :استان مازندران - تنکابن - خیابان شهید ابوذر حاتمیان - جنب ابن سینای غربی - ساختمان اشکان تلفن:01924223845

[-Post_Title-]
[-Post_Content-]
[-Post_More_Content-]
موضوعات:[-Post_Category-] ,

بر چسب:[-Post_Keyword-] ,

منبع:[-Post_Source-] | بازدید از پست:[-Post_Hit-] | امتیاز به پست:[-Post_Rate-] نتیجه: [-Post_Result_Rate_Total-] امتیاز توسط [-Post_Result_Rate_User-] نفر
ارسال شده توسط [-Post_Author-] در تاریخ [-Post_Date-] ساعت [-Post_Time-] | [-Post_Comment-]([-Post_Comment_Count-])
ارسال نظر
[-Comment-Template-]
 

 


 
 
 
محمد بن حسن عسکری (عج) آخرین امام از امامان دوازده گانه شیعیان است. در ١۵ شعبان سال ٢۵۵ هـ.ق در سامرا به دنیا آمد و تنها فرزند امام حسن عسکری (ع)، یازدهمین امام شعیان ما است. مادر آن حضرت نرجس (نرگس) است که گفته اند از نوادگان قیصر روم بوده است. «مهدی» حُجَت، قائم منتظر، خلف صالح، بقیه الله، صاحب زمان، ولی عصر و امام عصر از لقبهای آن حضرت است.